اشرافیہ سے پوچھ گچھ مزید مشکل:اب جرائم میں ملوث ایم این ایز کی گرفتاری کی منظوری اسپیکر سے لینا ہوگی
قومی اسمبلی نے ”رُولز آف پروسیجر اینڈکنڈکٹ آف بزنس اِن نیشنل اسمبلی 2007ء“میں نئی ترامیم کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت اب کسی بھی ایم این اے کی گرفتار ی سے قبل حکام کو اسپیکر قومی اسمبلی کی پیشگی منظوری درکار ہوگی۔ان ترامیم سے قبل یہ قانون رائج تھا کہ کسی بھی ایم این اے کی گرفتاری کی صورت میں حکام اس گرفتاری سے متعلق اسپیکر کو مطلع کردیا کرتے تھے۔ اب حکام پرلازم ہوگا کہ وہ کسی ایم این اے کو گرفتارکرنے یا حراست میں لینے سے قبل اسپیکر کی منظوری لیں گے۔
پارلیمنٹ نے پہلے نیب قانون میں ترامیم کرکے احتسابی عمل کو مذاق بنایا اوراربوں مالیت کے سینکڑوں کیسز کو نیب کے دائرہ کار سے نکال پھینکا جبکہ اب کسی بھی مجرمانہ کارروائی میں ملوث ایم این اے کی گرفتاری کو اسپیکر قومی اسمبلی کی پیشگی اجازت سے مشروط کر کے مزید مشکل بنا دیا ہے۔اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف،جو حال ہی میں نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بڑے بینفشریز میں شامل ہیں،اب حکام کو بتائیں گے کہ کس ایم این اے کو گرفتار کرنا ہے اور کس کو نہیں۔نئی ترامیم نے حکمران اشرافیہ کے احتساب اور جرائم کی صورت میں ان سے پوچھ گچھ کو مزید مشکل بنادیا ہے۔

ترامیم کی تفصیل
جمعرات20اکتوبر2022ء کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں قومی اسمبلی میں کارروائی کے قوائد و ضوابط،جنہیں ”رُولز آف پروسیجر اینڈکنڈکٹ آف بزنس اِن نیشنل اسمبلی2007ء“ کہا جاتا ہے،کے رُول نمبر103اوررُول نمبر106میں اہم ترامیم کی گئی ہیں،جس کے تحت کسی بھی رکن کی گرفتاری کیلئے موجودقوائد کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔
رُول103میں ترمیم
رُولز آف پروسیجر اینڈکنڈکٹ آف بزنس اِن نیشنل اسمبلی2007ء کے رُول 103میں کی گئی ترمیم کے بعد اس کی نئی شکل کچھ یوں ہے:۔
کسی بھی رکن کی گرفتاری یا حراست وغیرہ سے متعلق اسپیکر کی منظوری۔اگر کسی رکن کو کسی کرمنل چارج یا کسی مجرمانہ عمل پر گرفتار کیا جانا ہویا اسے کسی ایگزیکٹو آرڈر کے تحت حراست میں لیاجانا ہوتوایسا کرنے والا جج،مجسٹریٹ یا ایگزیکٹو اتھارٹی یاجو بھی صورت ہو،کو فوری طور پرگرفتاری یا حراست کی وجوہات کا عندیہ دیتے ہوئے اسپیکر کی منظوری لینا ہوگی اور ایسی گرفتاری یا حراست کے بعد یاجب کسی رکن کو کسی کورٹ آف لاء،جج،مجسٹریٹ یا ایگزیکٹو اتھارٹی کی جانب سے سزا دے دی جائے یا جو بھی کیس ہو، رکن کی حراست یا قید کی جگہ سے متعلق فورتھ شیڈول میں بیان شدہ مناسب فارم میں آگاہ کیا جائے گا۔“
رُول106میں ترمیم
کسی ایم این اے کی گرفتاری سے قبل اسپیکر کی منظوری لینے کے ساتھ ساتھ ارکان کی گرفتاری سے متعلق ایک اور اہم ترمیم کی گئی ہے۔ یہ ترمیم رُولز آف پروسیجر اینڈکنڈکٹ آف بزنس اِن نیشنل اسمبلی2007ء کے رُول 106میں کی گئی ہے۔اس کے تحت اب قومی اسمبلی کے احاطے سے بھی کسی رکن کو گرفتار نہیں کیا جا سکے گا۔رُول106میں منظورشدہ ترمیم میں کہاگیا ہے کہ ”کسی بھی رکن کو قومی اسمبلی کے احاطے سے گرفتار نہیں کیا جائے گا۔“

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر
