کیا زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائک پر سندھ کے سرکاری خزانے سے نوازشات کی گئیں؟
آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ میں انکشاف کیاگیاہے کہ مبینہ طور پر پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کی جانب سے آصف علی زرداری کے کیسز لڑنے والے نامور وکیل فاروق ایچ نائیک پر سندھ کے سرکاری خزانے سے کروڑوں روپے کی نوازشات کی گئیں۔ آڈیٹر حکام کے مطابق سندھ حکومت نے فاروق ایچ نائیک کو نوازنے کیلئے مبینہ طور پر سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کو بھی نظرانداز کیا۔
سندھ حکومت نے کیا کیا؟
آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق جب حکومتِ سندھ کے ”سیکرٹری قانون،پارلیمانی امور اور کرمنل پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ“کے اکاؤنٹس برائے مالی سال2021-22ء کا آڈٹ کیا گیا تو پتہ چلا کہ نجی وکیل کوسپریم کورٹ احکامات کے برخلاف4.95کروڑ روپے کی ادائیگی کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سرکاری فنڈز سے اربوں کے ذاتی گھربنانیوالے پاکستان کے پانچ جاگیرداروزرائے اعظم
آڈٹ رپورٹ کے مطابق فاروق ایچ نائیک کو سندھ کے محکمہ صحت کی سات سول پٹیشنز کیلئے 25لاکھ روپے فی پٹیشن کے نرخ پر ہائر کیا گیا تھا۔ ان کیسز میں عدالتی فیصلے حکومت سندھ کیخلاف آئے تھے۔رپورٹ کے مطابق بعدازاں فاروق ایچ نائیک کو سات نظرثانی اپیلوں کیلئے بھی ہائرکیا گیا۔ اس بار انہیں 45لاکھ فی نظرثانی پٹیشن کی لاگت سے ہائر کیاگیا،جسکی کل لاگت تین کروڑ پندرہ لاکھ روپے بنتی تھی۔

آڈٹ رپورٹ میں فاروق ایچ نائیک سے متعلق ایک اور پیرے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ایک میٹنگ میں انکے ساتھ سندھ حکومت کے حکام نے 90لاکھ روپے کی ادائیگی طے کی تھی مگر اسکی بجائے نجی وکیل کو ڈیڑھ کروڑ روپے ادا کئے گئے یعنی نجی وکیل کو60لاکھ روپے کی ادائیگی طے شدہ رقم سے زائد تھی۔
یہ بھی پڑھیں: زرداری کی جانب سے بینظیر بھٹو کے پلاٹ پر قبضے کا اسکینڈل
آڈٹ حکام کے مطابق سندھ حکومت کی جانب سے فاروق ایچ نائیک کی خدمات لینے کا اقدام سپریم کورٹ احکامات کے برخلاف تھا کیونکہ عدالت عظمیٰ 2017ء میں پرائیویٹ وکلاء کی خدمات لینے کے عمل سے احتراز برتنے کے احکامات جاری کر چکی ہے۔آڈٹ حکام کی جانب سے یہ بھی لکھا گیا ہے کہ پیچیدہ یا exceptional کیس کے دفاع کیلئے نجی وکیل کی خدمات لینے کیلئے وزیراعلیٰ سندھ کی منظوری بھی نہیں لی گئی۔

آڈٹ حکام نے مزید اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ فاروق ایچ نائیک کی خدمات لینے سے قبل انکے ہم پلہ دیگر وکلاء سے مسابقتی نرخ بھی نہیں لئے گئے۔ اسکے علاوہ نجی وکیل کو ہائر کرنے سے قبل سولیسٹر جنرل سندھ کی جانب سے نجی وکیل سے بات چیت بھی نہیں ہوئی۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سولیسٹر نے نجی وکیل کی خدمات اور اسکی فیس طے کرنے کا کام کمیٹی کے ذریعے سرانجام دینے کی تجویز دی تھی،جسے سیکرٹری لاء اینڈ ہوم ڈیارٹمنٹ نے بھی سپورٹ کیا تھا تاہم”سینئر حکام“نے اس تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: کیا مشرف نے بلیک میلنگ کیلئے سپریم کورٹ ججوں کی غیراخلاقی ویڈیوزبنوائی تھیں؟
آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ میں ان تمام اعتراضات کے بعد لکھا گیا ہے کہ نجی وکیل کو ہائر کرنے کے اس عمل میں ”ناجائزطرفداری(undue favoritism)“کے امکانات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔اسکے علاوہ آڈٹ حکام نے یہ بھی لکھا ہے کہ ان کیسز کی پیش رفت رپورٹ اور ان میں معززعدالتوں کے فیصلے آڈٹ کیلئے دستیاب ہی نہیں تھے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ”معزز سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود نجی وکیل کی خدمات لینے کا یہ عمل ناصرف بے قاعدہ ہے بلکہ عدالتی احکامات کے برخلاف ہے۔“

آڈٹ حکام نے کہا ہے کہ معاملہ جولائی2022ء میں انتظامیہ کو رپورٹ ہونے کے باوجودکوئی جواب موصول نہیں ہوا۔حکام کی جانب سے اس معاملہ کے ذمہ داران کا تعین کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
فاروق ایچ نائیک اور آصف علی زرداری کی وکالت
سینئرقانون دان فاروق ایچ نائیک کئی برسوں سے آصف علی زرداری کے خلاف دائر کرپشن کیسز کا دفاع کررہے ہیں۔ انہوں نے ناصرف مقامی عدالتوں میں آصف علی زرداری اور بینظیر بھٹو کے خلاف دائر کیسز میں انکی وکالت کی بلکہ حکومت پاکستان کی جانب سے بھٹو خاندان کے خلاف دیگر ممالک میں دائر کرپشن کیسز میں بھی انکا دفاع کیا۔سینیٹ آف پاکستان کی ویب سائٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق فاروق ایچ نائیک نے آصف علی زرداری اور بینظیر بھٹو کیخلاف سوئٹزرلینڈ،برطانیہ اور اسپین میں دائر کیسوں میں انکا کامیابی سے دفاع کیاتھا۔
کیا آصف علی زرداری کو میرٹ پر کلین چٹ دلوائی جاتی رہی؟
آصف علی زرداری کیخلاف پاکستان اور بیرون ملک کئی کرپشن کیسز میں انہیں میرٹ کی بجائے ڈیل کے تحت کلین چٹ ملی۔آصف علی زرداری اور بینظیر بھٹو کیخلاف سوئس کیسز کو جنرل پرویز مشرف حکومت نے بدنام زمانہ ”این آر او ڈیل“ کے بعد خط لکھ کر بندکرایا تھا۔۔ سال 2008ء میں آصف علی زرداری صدر بن گئے تھے۔2009ء میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے این آر او کو کالعدم قراردیدیا اوراسکے تحت بند کردہ کیسز کھولنے کے احکامات بھی جاری کر دئے تاہم جب آصف علی زرداری کیخلاف کیسز کھلے توعدالتوں کو بتایا گیا کہ کئی سنگین کیسز کا ریکارڈ ہی غائب ہوچکا ہے۔

سوئس کیسز کو کھلوانے کیلئے پیپلزپارٹی کے اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے سوئس حکام کو خط لکھنے سے انکار کرتے ہوئے سپریم کورٹ احکامات کو ہوا میں اڑا دیا اور توہین عدالت لگوا کر وزارتِ عظمیٰ تک قربان کر دی تھی۔

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر
