منگل, نومبر 3, 2026
عدلیہ

آڈیو لیکس کمیشن کے تمام ٹی اوآرز کی تفصیل

Share

حکومت نے19مئی2023ء کو تین رکنی آڈیو لیکس انکوائری کمیشن تشکیل دیا ہے۔ کمیشن ممبران کی تفصیل کچھ یوں ہے:۔


جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، سربراہ کمیشن
جسٹس نعیم اختر،چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ،رکن
جسٹس عامر فاروق،چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ،رکن

کمیشن کی ٹی او آرز
آڈیو لیکس کمیشن کی تمام ٹی او آرز کی تفصیل کچھ یوں ہے

ایک۔آڈیو لیکس کی صداقت کی تحقیقات کرنا،ان آڈیوز میں درج ذیل شامل ہیں:۔

اے۔سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور ایک ایڈووکیٹ کے مابین سپریم کورٹ کے ایک حاضرسروس جج سے متعلق کال
بی۔سابق وزیراعلیٰ پنجاب اورایک ایڈووکیٹ کے مابین سپریم کورٹ کے ایک مخصوص بینچ کے سامنے چند کیس فِکس کرنے سے متعلق کال
سی۔سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور سپریم کورٹ کے سِٹنگ جج کے مابین کال
ڈی۔سابق چیف جسٹس آف پاکستان اور ایک سینئر وکیل کے مابین کال
ای۔ایک وکیل اور صحافی کے مابین سپریم کورٹ کے مخصوص بینچ میں ایک کیس کے نتیجہ سے متعلق کال
ایف۔سابق وزیراعظم اور انکی پارٹی کولیگ کے مابین سپریم کورٹ میں انکے تعلقات سے متعلق کال
جی۔چیف جسٹس آف پاکستان کی ساس اور ایک وکیل کی اہلیہ کے مابین سپریم کورٹ میں کیسز سے متعلق کال
ایچ۔سابق چیف جسٹس آف پاکستان کے بیٹے اور انکے دوست کے مابین کال، جس میں انکے والد کے سیاسی کردار کا ذکر ہے

یہ بھی پڑھیں: امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کی رِہائی میں آئی ایس آئی کا کردار

دو۔ پرنٹ،الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے داماد بارے لاہورہائی کورٹ کی عدالتی کارروائی پر اثرانداز ہونے کے الزامات کی صداقت کی تحقیقات کرنا

تین۔ انصاف کے انتظام کے عمل کی دیانتداری،عدلیہ کی آزادی،منصفانہ ٹرائل کے حق اور شہریوں کی برابری سے متعلق اگر کوئی خلاف ورزی ہو، تو اس کا تعین کرنا

چار۔مبینہ آڈیو لیکس میں جن افراد کا نام آیا ہے ان میں سے کسی کی یا سب کی کسی فرد یا پبلک آفس ہولڈرز کے خلاف پاکستان پینل کوڈ1860ء یا کسی اور قانون کے تحت ذمہ داری کا تعین کرنا

پانچ۔اس بات کا تعین کرنا کہ آیا کوئی ڈسپلنری کارروائی لاگو ہوتی ہے

چھ۔کوئی بھی فرد یا پبلک آفس ہولڈر جس نے پاکستان کے قوانین کے برخلاف معاونت یا سہولت کاری کی ہو،کی ذمہ داری کا تعین کرنا

یہ بھی پڑھیں: سرکاری فنڈز سے ذاتی گھربنانیوالے پاکستان کے پانچ جاگیرداروزرائے اعظم

سات۔کسی ایجنسی،محکمہ یا شخص کی جانب سے کسی ضروری قانونی کارروائی کی سفارش کرنا

آٹھ۔اگر بیان شدہ آڈیو ز جعلی یا من گھڑت ہیں توانہیں بنانے والوں سے متعلق تحقیقات کرنا اور ذمہ داروں کا تعین کرنا اور اس حوالے سے کارروائی کرنے کی سفارش کرنا

نو۔ان امور سے متعلق کوئی بھی ذیلی یا متعلقہ معاملہ یا جسکی انکوائری کرنا کمیشن کو انصاف کے مفاد میں موزوں لگے۔

کمیشن کا پہلا اجلاس
آڈیو لیکس کمیشن کا پہلا اجلاس 22مئی2023ء کو سپریم کورٹ کے سینئرجج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ میں ہوا ہے۔۔کمیشن نے آڈیولیکس سے متعلق کارروائی کو پبلک کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا مشرف نے بلیک میلنگ کیلئے سپریم کورٹ ججوں کی غیراخلاقی ویڈیوزبنوائی تھیں؟

کمیشن کی جانب سے آڈیوز میں شامل تمام افراد کے نام،ایڈریس اوررابطہ نمبرز طلب کر لئے گئے ہیں اوراٹارنی جنرل کو تمام ریکارڈ 24مئی سے قبل جمع کرانے کی ہدایت بھی کر دی گئی ہے۔۔کمیشن نے مزید کارروائی27مئی تک ملتوی کر دی ہے


Share

Kismat Khan

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے