پیر, نومبر 2, 2026
پارلیمنٹ

توہینِ پارلیمنٹ بل کے اہم نکات!

Share

سولہ مئی2023ء کو قومی اسمبلی کی جانب سے توہینِ پارلیمنٹ کے بل کی منظوری دی گئی۔ یہ بل پاکستان تحریکِ انصاف کے منحرف رکن قومی اسمبلی رانا محمد قاسم نون کی جانب سے لایا گیا تھا۔ یہ بل پارلیمنٹ اور اسکے اراکین کو مقدس گائے بنا نے کی جانب پیش رفت ہے۔اس بل کے مندرجات کے مطابق اسکے تحت دی جانیوالی سزاکیخلاف کسی عدالت میں اپیل دائر نہیں کی جا سکتی۔

اہم نکات!
بل کی شق تین کے تحت ’کوئی بھی شخص جس نے پارلیمنٹ کے کسی رکن،ایوان یا کسی کمیٹی کی جان بوجھ کر استحقاق کی خلاف ورزی کی ہو،وہ پارلیمنٹ کی توہین کا مرتکب قرار دیا جائے گا

یہ بھی پڑھیں: حمودالرحمن کمیشن نے فوجی افسران کی عیاشی اورغیراخلاقی سرگرمیوں پرکیالکھاتھا؟

بل کی شق چار کے تحت پارلیمنٹ کی کوئی بھی کمیٹی اپنی توہین کے کسی بھی معاملہ کو استحاق کمیٹی کو ریفر کرنے کی مجاز ہوگی۔استحقاق کمیٹی بھجوائے گئے معاملہ پر 60روز کے اندر اپنی سفارشات پر مبنی رپورٹ تیار کرے گی

استحقاق کمیٹی کی جانب سے تیار شدہ رپورٹ کو متعلقہ ایوان (قومی اسمبلی،سینیٹ،مشترکہ اجلاس)کے سامنے رکھا جائے گا۔ ایوان اس رپورٹ کی بنیاد پر معاملہ کو توہین(contempt) کمیٹی کو بھجوانے کا فیصلے کرے گا

بل کی شق چار کے مطابق اگر ایوان کی جانب سے استحقاق کمیٹی کی رپورٹ پر پیش رفت کی جاتی ہے تو توہین کے مرتکب فرد کو توہین کی کارروائی کے خاتمہ تک کوئی بھی سرکاری کام کرنے سے روک دیا جائے گا

یہ بھی پڑھیں: زرداری نے مُردے سے اپنی اِمپورٹڈ گاڑیوں کی ڈیوٹی کیسے بھروائی؟

بل کی شق پانچ کے مطابق اس قانون کے نافذ ہونے کے تیس روز کے اندر اسپیکر کی جانب سے پانچ رکنی توہین(contempt) کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔

توہین کمیٹی میں تین ایم این ایز اوردو سینیٹرز شامل ہونگے۔قومی اسمبلی سیکرٹیریٹ کا سیکرٹری توہین کمیٹی کے سیکرٹری کے فرائض سرانجام دے گا

بل کی شق چھ کے مطابق کسی بھی شخص کی حاضری اور ڈاکومنٹس پیش کرنے کو یقینی بنانے کیلئے توہین کمیٹی کے پاس سول کورٹ کے اختیارات ہونگے

بل کی شق چھ کے مطابق توہین کمیٹی کسی بھی فردکی کمیٹی کے سامنے پیشی کیلئے سمن جاری کرنے کے احکامات جاری کر سکتی ہے۔ اگر سمن کے اجراء کے باوجود کوئی پیش نہیں ہوتا تو کمیٹی چیئرمین مقامی پولیس کے ذریعے اسکی پیشی کیلئے وارنٹ جاری کر سکے گا

مگر شرط یہ ہے کہ ایسے وارنٹ قومی اسمبلی کی صورت میں اسپیکر قومی اسمبلی اور سینٹ کی صورت میں چیئرمین سینٹ کی پیشگی منظوری کے بغیر جاری نہیں کئے جائیں گے

اس قانون کے تحت توہین پارلیمنٹ کے مرتکب ہونیوالوں کو چھ ماہ تک کی سادہ قید یا دس لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔سزا دینے کا اختیار توہین کمیٹی کے پاس ہوگا

یہ بھی پڑھیں: امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کی رِہائی میں آئی ایس آئی کا کردار

اس قانون کے تحت فیصلے کیخلاف اپیل کا فورم اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینٹ ہوگا۔فیصلہ کے تیس دن کے اندر اپیل دائر کی جا سکے گی

سزاپر عملدرآمد اس ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی جانب سے کرایا جائے گا جس کی علاقائی حدود میں ملزم رہائش پذیر ہویا کام کررہا ہو


Share

Kismat Khan

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے