انتخابات التواء کیس: سپریم کورٹ کے4اپریل2023ء کے فیصلہ کے 13اہم نکات
پنجاب اور خیبرپختونخواانتخابات التواء سے متعلق سپریم کورٹ کے 4اپریل کے تاریخی فیصلہ کے اہم نکات کی تفصیل کچھ یوں ہے:۔
ایک۔الیکشن کمیشن کے 22مارچ2023ء کے آرڈر کو غیرآئینی قراردیا جاتا ہے۔ آئین اور قانون الیکشن کمیشن کو انتخابات کی تاریخ نوے روز کے دورانئے سے بڑھانے کی اجازت نہیں دیتا

دو۔الیکشن کمیشن کی جانب سے پنجاب اسمبلی انتخابات کیلئے جاری شدہ الیکشن پروگرام کو چند تبدیلیوں کے ساتھ فوری بحال کیا جاتا ہے
یہ بھی پڑھیں: نوازشریف نے1997ء میں سپریم کورٹ ججوں کو آپس میں کیسے لڑایا تھا؟
تین۔الیکشن پروگرام کے تحت امورپانچویں مرحلہ میں تھے کہ الیکشن کمیشن نے 22مارچ کا آرڈر جاری کر دیا جسکے باعث الیکشن پروگرام کے بقیہ مراحل 6تا11پر عمل نہیں کیا جاسکا اور الیکشن کمیشن کے غیرقانونی آرڈر کے باعث13روز ضائع ہوگئے
چار۔ الیکشن کی تاریخ کو 30اپریل2023ء سے 14مئی2023ء کو شفٹ کیا جاتا ہے

پانچ۔الیکشن کمیشن کی جانب سے دوٹوک انداز میں کہاگیا کہ اگر آرٹیکل220کے تحت وفاق اورصوبوں میں ایگزیکٹو حکام کی جانب سے معاونت فراہم کی جائے تو الیکشن کمیشن پنجاب اور خیبرپختونخوا میں الیکشن کرا سکے گا
یہ بھی پڑھیں: حمودالرحمن کمیشن نے فوجی افسران کی عیاشی اورغیراخلاقی سرگرمیوں پرکیالکھاتھا؟
چھ۔پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات کے انعقاد کیلئے وفاقی حکومت فوری طور پر اورہرحال میں 10اپریل تک الیکشن کمیشن کو 21ارب روپے فراہم کرے
سات۔الیکشن کمیشن11اپریل2023ء تک عدالت میں رپورٹ دائر کرکے بتائے کہ آیا مذکورہ فنڈز کو فراہم کردیا گیا ہے اوراگر ایسا کیا گیا ہے تو کیاپورے پیسے دئے گئے ہیں یا کچھ
آٹھ۔نگران کابینہ بالخصوص چیف سیکرٹری اور آئی جی(پنجاب) 10اپریل تک الیکشن کمیشن کو انتخابی ڈیوٹی اورسیکیورٹی مقاصد کیلئے مطلوبہ اہلکاروں کی فراہمی کاقابلِ قبول پلان فراہم کریں اور پنجاب حکومت الیکشن کے انعقاد کیلئے الیکشن کمیشن کو تمام معاونت فراہم کرے
نو۔وفاقی حکومت الیکشن کمیشن کو پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں میں انتخابات کے انعقاد کیلئے درکار وہ تمام معاونت اور مدد فراہم کرے،جو کمیشن کی جانب سے طلب کی جائے
یہ بھی پڑھیں: آصف علی زرداری کا توشہ خانہ اسکینڈل
دس۔وفاقی حکومت الیکشن کمیشن کو درکار تمام ضروری اہلکاربشمول مسلح افواج،رینجرز،ایف سی اور وفاقی حکومت کے زیرِ کنٹرول اورکمانڈ تمام دیگر فورسز کی دستیابی کو ممکن بنائے اور اس سلسلہ میں وفاقی حکومت 17اپریل تک کمیشن کو قابلِ قبول پلان مہیا کرے

گیارہ۔اگر وفاقی حکومت یا پنجاب کی نگران حکومت کی جانب سے الیکشن کمیشن کو معاونت فراہم نہ کی جائے تو الیکشن کمیشن اسے عدالت کے زیرِغور لانے کیلئے پیش ہوسکتا ہے
بارہ۔یکم مارچ کے فیصلہ سے متعلق دو فاضل اقلیتی جج صاحبان(جسٹس منصورعلی شاہ اور جسٹس جمال خان مندوخیل) کی جانب سے لی گئی پوزیشن غلط ہے اور قانونی لحاظ سے قابلِ برقرار نہیں


تیرہ۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس امین الدین خان کے 29مارچ کے فیصلہ میں دی گئی کسی آبزرویشنز کا موجودہ کیس کے فیصلہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر
