ممنوعہ فنڈنگ کیس:کیا عدالت نے الیکشن کمیشن کی ’فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ‘ کو درست کہا؟
ممنوعہ فنڈنگ کیس میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست پر عدالت کی جانب سے جاری شدہ تفصیلی فیصلہ میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ’فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ‘ کو درست قرارنہیں دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے مین اسٹریم میڈیا کی جانب سے دی جانیوالی یہ خبریں درست نہیں کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے پی ٹی آئی کی ممنوعہ فنڈنگ سے متعلق الیکشن کمیشن کی ’فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ‘ کو درست قرار دے دیا گیا ہے۔

یاد رہے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 2اگست2022ء کو پاکستان تحریک انصاف کے ممنوعہ فنڈنگ کیس بارے’فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ‘ دی تھی، جسے پی ٹی آئی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا تھا۔
الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کی درخواست کیوں خارج کی؟
اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے پی ٹی آئی کی درخواست کو یہ کہہ کر خارج کیا گیا ہے کہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے بعد چونکہ الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریکِ انصاف کو شوکازنوٹس جاری کیا ہواہے اور شوکاز نوٹس کی کارروائی ہونا ابھی باقی ہے،جس میں پی ٹی آئی کو منصفانہ طور پر سنے جانے کا حق حاصل ہے،اس لئے اس مرحلہ پر ’فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست’قبل از وقت‘ہے۔


فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ شوکازنوٹس کی کارروائی کی تکمیل کے بعداوراس کے نتیجہ میں الیکشن کمیشن کا حتمی فیصلہ آجانے کے بعد اگر پاکستان تحریک انصاف کو کوئی شکایت ہوگی تو اسے الیکشن کمیشن کے اس فیصلہ کیخلاف آئینی عدالت میں عدالتی نظرثانی کا حق حاصل ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: کیا مشرف نے بلیک میلنگ کیلئے سپریم کورٹ ججوں کی غیراخلاقی ویڈیوزبنوائی تھیں؟
عدالتی فیصلہ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’الیکشن کمیشن کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ‘ میں دی جانیوالی فائنڈنگز حتمی نہیں بلکہ عارضی نوعیت کی ہیں۔ فیصلہ کے مطابق الیکشن کمیشن کی’فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ‘ کی ان غیر حتمی فائنڈنگز کا جواب مانگنے کیلئے پاکستان تحریکِ انصاف کو شوکازنوٹس جاری کیا جا چکا ہے۔
فیصلہ کے مطابق پاکستان تحریکِ انصاف کو سنے جانے کا حق حاصل ہے اورپی ٹی آئی کے سنے جانے کے اس حق کو ’محدود حق‘نہیں سمجھا جا سکتا۔ فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کو یہ حق ہوگا کہ الیکشن کمیشن کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں درستی کروانے یا پھراس میں دی گئی فائنڈنگز کی تنسیخ کیلئے اپنے تمام اعتراضات کو اٹھائے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کی رِہائی میں آئی ایس آئی کا کردار
الیکشن کمیشن سے منصفانہ کام کی توقع
اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کے پیرا31میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان ایک پبلک اتھارٹی ہونے کی حیثیت سے منصفانہ،شفاف اور معقول انداز سے کام کرنے کا پابند ہے اور الیکشن کمیشن آف پاکستان پریہ ذمہ داری عائد ہوگی کہ وہ شوکازنوٹس کی کارروائی کے دوران کھلے دماغ کے ساتھ پاکستان تحریکِ انصاف کے تمام حقیقی اورقانونی دلائل کو زیرِغور لائے اورمعقول حکم نامہ کے ذریعے ان کا فیصلہ کرے۔
یہ بھی پڑھیں: حمودالرحمن کمیشن نے فوجی افسران کی عیاشی اورغیراخلاقی سرگرمیوں پرکیالکھاتھا؟
فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کی دلچسپی اس بات میں نہیں ہونی چاہئے کہ وہ پی ٹی آئی کے ممنوعہ فنڈنگ بارے اپنی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے نتائج کی توثیق کرے بلکہ کھلے دماغ کے ساتھ تمام قانونی و حقیقی دلائل کو زیرِ غور لاکر فیصلہ کرے۔
یہ بھی پڑھیں: 1990ء میں نوازشریف کیلئے الیکشن کیسے چرایا گیا؟
اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس بات کا امکان بھی موجود ہے کہ’پاکستان تحریکِ انصاف‘ الیکشن کمیشن کو مطمئن کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے کہ اسے ممنوعہ فنڈنگ موصول نہیں ہوئی اور نتیجہ میں الیکشن کمیشن کی جانب سے شوکازنوٹس ہی واپس لے لیا جائے۔

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر
