منگل, نومبر 3, 2026
تاریخی رپورٹس

کچھ ہواتو ذمہ دار جنرل مشرف ہوگا،بینظیر کی قتل سے قبل ای میل

Share

بینظیر بھٹو نے اپنے قتل سے دوماہ قبل اپنے بااعتماد امریکی دوست اور مشیر مارک سیگل کو ای میل کرکے آگاہ کر دیا تھا کہ اگر وہ قتل ہوجاتی ہیں تو اس کا ذمہ دار اس وقت کا فوجی صدر جنرل پرویز مشرف ہوگا۔بینظیر بھٹو نے مارک سیگل کو یہ ای میل 18اکتوبر2007ء کو کراچی میں اپنے استقبالی جلوس پر ہونیوالے ان دھماکوں کے بعد کی تھی،جس میں 130سے زائد ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ 18اکتوبرکے دھماکوں کو سانحہ کارساز کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کی رِہائی میں آئی ایس آئی کا کردار

یہ ای میل 26اکتوبر2007ء کو کی گئی تھی اور اس کے دو ماہ بعد 27دسمبر2007ء کو بینظیر بھٹو کو راولپنڈی میں قتل کر دیا گیا تھا۔

تاہم بینظیر بھٹو نے اپنی زندگی میں جس شخص سے قتل کے خطرے بارے لکھا تھا پیپلزپارٹی قیادت نے اپنی رہنماکے قتل کے چند روز بعد ہی اقتدار کے حصول کے لئے اس کے ساتھ بات چیت شروع کر دی تھی۔دستاویزات کے مطابق آصف علی زرداری نے بینظیر بھٹو کے قتل کے بعدسال2008ء کے انتخابات سے قبل جنرل مشرف کی مشاورت اور راہنمائی سے تمام اقدامات اٹھائے تھے اور بعد میں امریکہ اور فوج کو ضمانت دی تھی کہ جنرل مشرف کو تمام کیسز سے استثنیٰ دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: سانحہ کارپر اقوامِ متحدہ تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ نے کیا لکھا تھا؟

بینظیر بھٹو کی ای میل کی تفصیل
مارک سیگل نے بینظیر بھٹو سے ای میل موصول ہونے کے بعد اسے سی این این کے رپورٹر’وولف بلٹزر‘کو فاروَرڈ کردیا تھا اور ساتھ ہی ہدایت کی تھی کہ بینظیر بھٹو کی ہلاکت سے قبل اسے رپورٹ نہیں کرنا۔یوں مارک سیگل کی ہدایات کے مطابق 27دسمبر2007ء کو بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد28دسمبر2007ء کو سی این این کے رپورٹر نے اس ای میل کو شائع کر دیا تھا۔

CNN’ report dated 28th December, 2007 on Benazir’ email to her friend Mark Siegel.

بینظیر بھٹو کی جنرل مشرف پر شکوک و شبہات سے متعلق اس ای میل کو ان کی ہلاکت کے ایک روز بعد ’سی این این‘ نے شائع کیا تھا۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق بینظیربھٹو نے اس ای میل میں لکھا تھا کہ’اسے ان کے قتل کی صورت میں استعمال کیا جائے۔‘

یہ بھی پڑھیں: 1990ء میں نوازشریف کیلئے الیکشن کیسے چرایا گیا؟

رپورٹ کے مطابق اس ای میل میں بینظیر بھٹو نے جنرل پرویز مشرف اور اس کے ماتحت عہدیداران پرشکوک و شبہات کو ریکارڈ کا حصہ بنایا تھا۔امریکی دوست مارک سیگل کے نام ای میل میں بینظیربھٹو نے لکھا تھا کہ’آپ کومطلع کرنا چاہتی ہوں کہ اگر مجھے کچھ ہوتا ہے تو ان افراد کے علاوہ جن کے نام میں نے16اکتوبرکے خط میں لکھے ہیں،جنرل مشرف بھی ذمہ دار ہوں گے۔اس کے ماتحت عہدیداران نے مجھے عدم تحفظ کا احساس دلایا ہے۔‘

اہلیہ کے قتل کے بعد زرداری کی مشرف سے ڈیل
بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد انکے شک کے دائرے میں شامل مرکزی شخصیت جنرل پرویز مشرف کو کٹہرے میں لانے کی بجائے آصف علی زرداری اور انکی جماعت نے اقتدار کے حصول کیلئے ان سے ڈیل کر لی تھی۔ اس ڈیل کا انکشاف وِکی لیکس کی جانب سے سامنے لائی جانیوالی امریکی سفارتخانے کی خفیہ دستاویزات سے ہوتا ہے۔ وِکی لیکس کی جانب سے سامنے لائی گئی دستاویزات کے مطابق آصف علی زرداری بینظیر بھٹو کے قتل کے چند روز بعد ہی اقتدار کے کھیل میں بھرپور انداز میں سرگرم ہوکراس وقت کے صدر جنرل مشرف سے مذاکرات کر نے میں جُٹ گئے تھے۔

US Embassy cable which shows how Zardari was busy making power talks with the then military ruler General Pervez Musharraf says after killing of his wife Benazir Bhutto. The Cable was leaked by Wikileaks,

سال2008ء کے عام انتخابات سے قبل آصف علی زرداری اور جنرل مشرف کے باعتماد ساتھی مل کر اگلی حکومت کی تشکیل کے پلان مرتب کررہے تھے اور اس عمل میں دونوں کی جانب سے امریکی حکام کو اعتماد میں لیاجارہاتھا۔ اس کا ثبوت امریکی سفارتخانے کی لیک شدہ خفیہ دستاویزات میں موجود ہے۔

Another US embassy leaked document shows PPP had promised to provide immunity to military dictator Gen Pervez Musharraf. This deal too was brokered by Military establishment and USA. PPP killed leader Benazir had blamed Musharraf for her killing in her email to Mark Siegel.

امریکی سفارتخانے کی دستاویزات کے مطابق سال2008ء میں جنرل مشرف سے صدرات بھی ایک ڈیل کے تحت لی گئی تھی جس میں پیپلزپارٹی کی قیادت نے مستعفیٰ ہونے کی صورت میں مشرف کو استثنیٰ دینے کی ضمانت دی تھی۔امریکی سفارتخانے کی خفیہ دستاویزات کے مطابق پیپلزپارٹی مشرف کوکیسز سے بچانے کیلئے بھرپورکوشش کرتی رہی تھی۔


Share

Kismat Khan

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے