منگل, نومبر 3, 2026
تاریخی رپورٹس

ریمنڈڈیوس کی اعلیٰ ریاستی حکام کی مدد سے پاکستانی جیل سے امریکہ روانگی کی تفصیلی کہانی

Share

امریکی جاسوس اور سی آئی اے کنٹریکٹر ریمنڈڈیوس نے 27جنوری2011ء کو لاہور میں دن دہاڑے دوپاکستانیوں کو قتل کر دیا تھا۔ ریمنڈڈیوس کی جانب سے دو پاکستانیوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کے بعد قاتل کو بچانے کیلئے امریکی قونصلیٹ کی گاڑی آئی تھی۔ اس گاڑی نے بھی ایک راہ گیر پاکستانی کو کچل دیا۔ یوں امریکی جاسوس ریمنڈڈیوس اوراسے بچانے کی کوشش کرنیوالے امریکی حکام نے تین پاکستانیوں کو موت کے گھاٹ اتاردیا تھا۔

امریکہ کے اس جاسوس اور معصوم پاکستانیوں کے قاتل ریمنڈڈیوس کو پولیس نے حراست میں لے لیاتھا لیکن حراست کے دوران اسے قاتل سمجھنے کی بجائے شاہانہ پروٹوکول دیا گیا،جس سے مایوس ہوکر ریمنڈڈیوس کے ہاتھوں قتل ہونیوالے ایک پاکستانی شہری کی بیوہ نے فروری2011ء میں زہرکھاکرخودکشی کرلی۔ مقتول کی بیوہ کاماننا تھا کہ ’پاکستانی حکومت انہیں انصاف فراہم نہیں کرے گی۔ مقتول کی بیوہ نے مرنے سے قبل اسپتال میں ڈاکٹروں کو بتایا تھا کہ ’انکے خاوند کے قاتل ریمنڈ ڈیوس کوپولیس حراست میں وی آئی پی کا درجہ دیا جارہا ہے اور انہیں یقین ہے کہ وہ ریمنڈڈیوس کو جانے دیں گے۔‘

یوں ریمنڈڈیوس کے قتل کی بھینٹ چڑھنے والوں کی تعداد چار تک پہنچ گئی۔‘

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کا صدر کے نام اعلیٰ فوجی حکام کیخلاف انکوائری کے خط کا مکمل متن

امریکہ نے معصوم پاکستانیوں کے قاتل ریمنڈڈیوس کو بچانے اور چھڑانے کی کوششیں جاری رکھیں۔پاکستان کے ریاستی اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر تعینات افراد نے امریکی حکام کی بھرپورمعاونت کی اور مقتولین کے ورثاء کو دیت کی رقم کی ادائیگی کے بعد ریمنڈڈیوس کو لاہور کی جیل سے نکال کرامریکہ بجھوادیا گیا۔

خواجہ آصف نے سال2017ء میں بطور وزیرخارجہ پارلیمنٹ میں اعتراف کیاتھا کہ ریمنڈڈیوس کی رہائی کیلئے مقتولین کے ورثاء کو جو دیت کی رقم اداکی گئی وہ امریکیوں نے نہیں بلکہ حکومتِ پاکستان نے اداکی تھی۔ یوں ایک امریکی قاتل کو جیل سے نکالنے کیلئے مقتولین کے ورثاء کو دی جانیوالی دیت کی رقم بھی امریکہ سے لینے کی بجائے پاکستان میں حکمرانی کرنیوالے امریکہ کے وفاداروں نے ادا کی۔

ریمنڈڈیوس کی رہائی میں آئی ایس آئی سربراہ کا مبینہ کردار
امریکی جاسوس ریمنڈڈیوس کو پاکستانی جیل سے نکالنے میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اور پیپلزپارٹی حکومت کے کردار سے متعلق امریکی میڈیا کی رپورٹس اورامریکی حکام کی جانب سے لکھی گئی کتابوں میں کئی جگہ پر انکشافات کئے گئے ہیں۔ یاد رہے سال2011ء میں جب لاہور میں ریمنڈڈیوس نے معصوم اورنہتے پاکستانیوں کو موت کے گھاٹ اتاراتھا تو پنجاب میں ن لیگ اوروفاق میں پیپلزپارٹی کی حکومت تھی۔ اس کے علاوہ اس وقت آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی تھے جبکہ آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل احمد شجاع پاشا تھے۔

ریمنڈڈیوس کی رہائی میں کردارادا کرنیوالے کرداروں سے متعلق نامورامریکی اخبار’دی نیویارک ٹائمز‘ نے اپریل2013ء میں ایک اہم رپورٹ شائع کی تھی۔ اس رپورٹ میں بتایاگیاتھاکہ ریمنڈڈیوس پاکستان میں امریکی انٹیلی جنس ادارے’سی آئی اے‘ کے آدمی تھے اور پاکستان میں خفیہ طور پر جاسوسی کررہے تھے۔ رپورٹ کے مطابق ریمنڈڈیوس پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی مخالف کام کر رہے تھے۔

An image of NYT Report on Raymond Davis saga

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ ریمنڈڈیوس کے پکڑے جانے کے بعد اسے چھڑوانے کے طریقہ کار پر اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے میں تعینات ’سی آئی اے‘کے اسٹیشن چیف اور اس وقت کے امریکہ کے پاکستان میں تعینات سفیر ’کمیرون منٹر‘ میں اختلاف تھا۔ اخبار کے مطابق اسلام آباد میں تعینات سی آئی اے کے اسٹیشن چیف ’سی آئی اے‘کیلئے زیادہ سے زیادہ پاکستانی ایجنٹس بھرتی کرکے ان سے آئی ایس آئی کی ناک کے نیچے کام لینا چاہتے تھے اورآئی ایس آئی دفاتر کی الیکٹرانک نگرانی کو وسیع کرنا چاہتے تھے۔‘

یہ بھی پڑھیں: بینظیر کے استقبالی جلوس پر حملے بارے اقوامِ متحدہ تحقیقاتی کمیشن سربراہ کے انکشافات

امریکی اخبار کے مطابق امریکی سفیر کیمرون منٹرچاہتے تھے کہ ریمنڈڈیوس کو چھڑانے کیلئے فوری طور پر آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا کے پاس جا کران سے ڈیل کر لی جائے۔انکی رائے تھی کہ امریکہ آئی ایس آئی سربراہ کے سامنے اعتراف کرلے گا کہ ریمنڈ ڈیوس سی آئی اے کیلئے کام کررہا تھااور یوں اسے خاموشی سے پاکستان سے نکلوا لیا جائے گا۔ تاہم سی آئی اے نے کیمرون منٹر کی اس رائے پر اعتراض کیا۔اخبار کے مطابق ریمنڈ ڈیوس ایک ایسے شدت پسندگروپ کی جاسوسی کرتا رہا تھا جس کے آئی ایس آئی سے روابط تھے،اس لئے سی آئی اے اسے’اون‘ نہیں کرنا چاہتی تھی۔

Shumaila,the widow of Pakistani man who was shot and killed by Raymond Davis committed suicide.

اخبار کے مطابق ریمنڈڈیوس کی گرفتاری کے روز سی آئی اے کے اسٹیشن چیف نے امریکی سفیر کیمرون منٹرکو بتایا کہ فیصلہ کر لیاگیا ہے کہ پاکستانیوں سے تعاون نہیں کیاجائے گا۔ اسٹیشن چیف نے امریکی سفیر کیمرون منٹر کو خبردارکیا کہ ڈیل مت کرناکیونکہ پاکستان دشمن ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکہ کی اس حکمتِ عملی کا مطلب یہ تھا کہ اوپر سے نیچے تمام امریکی حکام کو ریمنڈڈیوس کے پاکستان میں کام کی اصلیت کوچھپانا تھا۔ امریکی حکام نے یہ مؤقف عوامی اورنجی دونوں سطح پر اپنانا تھا اور ریمنڈڈیوس کو سی آئی اے کا ملازم بتانے کی بجائے امریکی سفارتکارثابت کرناتھا۔

اس حکمت ِ عملی کے تحت امریکہ کے اس وقت کے صدر باراک اوبامہ نے بھی جھوٹ بولااور ریمنڈڈیوس کو امریکی سفارتکار کہا۔امریکی اخبار کے مطابق 15فروری2011ء کو امریکی صدر باراک اوبامہ نے ریمنڈڈیوس معاملہ پر پہلی بار تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ریمنڈڈیوس پاکستان میں ہمارا سفارتکار ہے،جسے سفارتی استثنیٰ کے نہایت سادہ اصول کے تحت فوری طور پر رِہا کیاجانا چاہئے۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اس کے بعد آئی ایس آئی سربراہ جنرل پاشا نے معاملہ کی مزید معلومات لینے کیلئے سی آئی اے ڈائریکٹر لیون پینیٹا سے بات کی۔اس بات چیت میں آئی ایس آئی سربراہ کی جانب سے شک کا اظہارکیاگیا کہ ریمنڈڈیوس سی آئی اے کا ملازم تھا اورلیون پینیٹاکو تجویز دی کہ دونوں ایجنسیاں اس معاملہ کو خاموشی سے ہینڈل کرلیں۔ تاہم پینیٹا نے امریکی حکمتِ عملی پر عمل پیراہوتے ہوئے انکارکردیا کہ ریمنڈڈیوس سی آئی اے کا ملازم نہیں۔

اخبار کے مطابق لیون پینیٹا نے ڈی جی آئی ایس آئی سے مزید کہا کہ یہ معاملہ اسکی پہنچ سے باہر ہے اور اسے امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ہینڈل کیاجارہا ہے۔اس پر جنرل پاشابرہم تھے اور انہوں نے ریمنڈڈیوس کی تقدیر کو لاہور کے ججوں کے رحم و کرم پر چھوڑدیا۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق معاملہ طول پکڑنے لگا تو امریکہ میں تعینات پاکستان کے سفیر کیمرون منٹر نے فیصلہ کرلیاکہ ریمنڈڈیوس کی رِہائی کیلئے سی آئی اے کی حکمتِ عملی کام نہیں کر رہی تھی۔سی آئی اے کے اعلیٰ حکام کو بھی احساس ہوا کہ پاکستان سے حقائق چھپانے کی وجہ سے آئی ایس آئی معاملہ کی گہرائی میں جارہی تھی،جس سے پاکستان میں سی آئی اے کے خفیہ آپریشنز کو خطرات لاحق ہوگئے تھے۔

اخبار کے مطابق ان حالات میں پاکستان میں تعینات امریکی سفیر کیمرون منٹر نے وائٹ ہاؤس،اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اورسی آئی اے حکام سے بات چیت کے بعدآئی ایس آئی سربراہ جنرل پاشا سے رابطہ کیا اور انہیں سچ بتادیا کہ ریمنڈڈیوس کا تعلق سی آئی اے سے تھا اور امریکہ اسے جلدازجلد پاکستان سے نکلوانا چاہتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: نوازشریف کا وہ ایک شاہی حکم جو پی آئی اے کو320کروڑ روپے میں پڑا

رپورٹ کے مطابق آئی ایس آئی سربراہ جنرل پاشا برہم تھے کہ سی آئی اے ڈائریکٹر لیون پینیٹا نے ان سے ریمنڈڈیوس کی شناخت سے متعلق جھوٹ بولاتھا۔اخبار کے مطابق اس کے ساتھ ہی امریکہ میں پاکستان کے اس وقت کے سفیر حسین حقانی کو سی آئی اے ہیڈکوارٹرز بلا کر ان سے کہاگیا کہ ریمنڈ ڈیوس کی رہائی میں ہماری مدد کرو۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایک ہفتہ بعد ڈی جی آئی ایس آئی جنرل پاشاامریکی سفیر کیمرون منٹر کے پاس ریمنڈڈیوس کی رہائی کی نئی حکمتِ عملی کو ڈِسکس کرنے کیلئے پہنچ گئے۔یہ ریمنڈڈیوس کے ہاتھوں قتل ہونیوالوں کے ورثاء کو ’دیت‘ کی رقم دینے کاحل تھا۔اس سے قبل واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی بھی امریکی حکام کے ساتھ’دیت‘ کی آپشن کو ڈِسکس کرچکے تھے۔

امریکی اخبار کے مطابق اس کے بعد ڈی جی آئی ایس آئی جنرل پاشا نے لاہور میں آئی ایس آئی اہلکاروں کو ریمنڈڈیوس کے ہاتھوں مرنے والے افراد کے گھر بھیجاتاکہ وہ ’سیٹلمنٹ‘ پربات چیت کر سکیں۔اخبار کے مطابق ابتداء میں مقتولین کے رشتہ داروں نے ’دیت‘ کے معاملہ پر مزاحمت کی لیکن آئی ایس آئی اہلکاروں نے بات چیت کے خاتمہ کوروکا۔کئی ہفتوں کی بات چیت کے بعد مقتول کے ورثاء 20کروڑ روپے،جو کہ اس وقت 23لاکھ40ہزار ڈالرز کے مساوی رقم تھی،کے عوض ریمنڈڈیوس کو معاف کرنے پر رضامند ہوگئے۔

رپورٹ کے مطابق جب16مارچ2011ء کو ریمنڈڈیوس کو عدالتی پیشی پرلایاگیاتو کمرہ عدالت میں ڈی جی آئی ایس آئی جنرل پاشا بھی موجود تھے۔ نیویارک ٹائمز نے اس عدالتی سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں موجود ایک شخص کے حوالے سے لکھا کہ ’جنرل پاشاکمرہ عدالت میں پیچھے بیٹھ گئے اور انکا سیل فون انکے ہاتھ میں تھا۔ اخبار کے مطابق جنرل پاشا نے امریکی سفیر کیمرون منٹر کو میسجز بھیج کر عدالتی کارروائی بارے اپ ڈیٹ کرنا شروع کر دیا۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق سماعت کا پہلا حصہ توقع کے مطابق ہوا اورجج کی جانب سے کہاگیا کہ ’سفارتی استثنیٰ سے متعلق وہ چند روز میں فیصلہ دے دیں گے۔رپورٹ کے مطابق جج کے اس بیان پر پاکستانی رپورٹرحضرات نے دیوانہ وار خبریں دینا شروع کردیں کہ کس طرح یہ چیز امریکہ کے کیس کیلئے دھچکا تھا اور یوں لگ رہا تھا کہ ریمنڈڈیوس کو جیل سے جلد رِہائی نہیں ملنے والی۔تاہم پھر جج نے کمرہ عدالت سے سب کو جانے کو کہا اورجنرل پاشا کا خفیہ پلان کھل کر سامنے آگیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد ایک دروازے سے مقتولین کے18رشتہ دار داخل ہوئے اور جج نے کہا کہ سول کورٹ نے شرعی کورٹ کا رُوپ دھار لیا ہے۔ مقتولین کے خاندان کا ہرفرد آنکھوں میں آنسو اور سِسکیوں کے ساتھ کمرہ عدالت میں موجود ریمنڈ ڈیوس کے پاس گیااوروہاں جا کرکہا کہ ریمنڈ ڈیوس کو معاف کیا۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ مطابق اس کے ساتھ ہی جنرل پاشا نے امریکی سفیرکمیرون منٹر کو پیغام بھیجا کہ معاملہ طے ہوگیا ہے اور اب ریمنڈڈیوس آزاد ہے۔اس کے بعد آئی ایس آئی حکام ریمنڈڈیوس کو عقبی دروازے سے کمرہ عدالت سے باہر لے گئے،جہاں اسے باہر کھڑی ایک گاڑی میں بٹھایاگیا،جو اسے لاہورائیرپورٹ لے گئی۔اخبار کے مطابق امریکی حکام بشمول امریکی سفیر کیمرون منٹر کے ائیرپورٹ پر ریمنڈڈیوس کے منتظر تھے۔

ریمنڈڈیوس سمیت لاتعدادامریکی جاسوس پاکستان کیسے آئے تھے؟
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں ریمنڈ ڈیوس جیسے اَن گنت امریکی جاسوسوں کے پاکستان میں داخلے پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ اس حوالے سے آصف علی زرداری کے منظورِ نظر حسین حقانی،جو پاکستان کے امریکہ میں سفیر تھے،نے کیا کرداراداکیاتھا۔

یہ بھی پڑھیں: زرداری کی جانب سے بینظیربھٹو کے پلاٹ پر قبضہ کرنے کا اسکینڈل

اس حوالے سے نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ”پاکستان میں زیادہ جاسوس بھیجنے کیلئے امریکہ نے اس وقت کے مبہم رُولز سے فائدہ اٹھایا،یہ رُولز امریکیوں کیلئے ویزوں کی منظور ی سے متعلق تھے۔امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ،سی آئی اے اور پینٹاگان کے اپنے اہلکاروں کیلئے ویزوں کے حصول کے الگ الگ رستے تھے۔پاکستان کے امریکہ میں سفیر حسین حقانی امریکہ نوازتھے اور انہیں اسلام آباد سے حکم تھا کہ امریکیوں کے ویزوں کی منظوری کیلئے نرمی دکھائیں کیونکہ پاکستان جانیوالے بیشتر امریکی کم از کم سرکاری طور پر غیرملکی امداد کی رقم میں کروڑوں ڈالرز کا انتظام سنبھالنے والے تھے۔“

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں اس حوالے سے مزید کہا گیا تھا کہ”جس وقت ریمنڈڈیوس نے لاہور میں قتل کئے اس وقت پاکستان میں جائز اورجھوٹی شناخت کے پردے میں اتنے امریکی کام کررہے تھے کہ امریکی سفارتخانے کے پاس انکی شناخت اور ٹھکانوں کا درست ریکارڈہی نہیں تھا۔“


Share

Kismat Khan

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے