نوازشریف کا وہ ایک ”شاہی حکم“ جوپی آئی اے کو 320کروڑ میں پڑا
سال2016ء میں اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف کے ایک’شاہی حکم‘کو عملی جامہ پہنانے کیلئے پی آئی اے کو 3ارب20کروڑ روپے مالیت کے بھاری نقصانات اٹھانا پڑے۔ پی آئی اے نے اربوں مالیت کے نقصانات اٹھالئے مگر نوازشریف کی حکم عدولی کرنے کی جرات نہ کی۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں شیئر کی جانیوالی سرکاری دستاویزات کے مطابق سابق وزیراعظم نوازشریف نے سال2016ء میں پی آئی اے کو ’پریمئرسروس فلائٹ آپریشن‘ نامی اسکیم کے اجراء کا حکم دیا تھا۔لندن سیکٹر کیلئے’پریمئرسروس فلائٹ آپریشن‘ کے اجراء کیلئے پی آئی اے کو لیز پر طیارے حاصل کرنا تھے۔ پی آئی اے نے وزیراعظم نوازشریف کی ہدایات کو عملی جامہ پہنانے کیلئے طیارے کرائے پر لینے کا فیصلہ کرنے سے قبل اس اسکیم کیلئے”ڈائریکٹ آپریٹنگ کاسٹ“سے متعلق مالی فزیبلٹی کرائی جو کہ منفی تھی۔یعنی مالی فزیبلٹی رپورٹ اس اسکیم کے اجراء کے خلاف تھی۔۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق منفی مالی فزیبلٹی رپورٹ کے باوجودہ پی آئی اے انتظامیہ نے قومی خزانے اور نقصان اورخساروں میں ڈوبی پی آئی اے کی پراوہ نہ کرتے ہوئے نوازشریف کے شاہی حکم کی بجاآوری کوترجیح دی اورسری لنکا سے ’ویٹ لیز‘پر طیارے حاصل کر کے اس اسکیم کو لانچ کر دیا۔
دستاویزات کے مطابق نوازشریف کے اس فیصلہ کے نتیجہ میں پی آئی اے کو آپریشنز اورریوینیو میں کمی کی مد میں 3ارب20کروڑ روپے مالیت کے نقصانات اٹھانا پڑے۔
دستاویزات کے مطابق نوازشریف کے احکامات پرلندن سیکٹر کیلئے پی آئی اے کی اس سروس کا آغاز 14اگست2016ء کو کیا گیا اورپی آئی اے انتظامیہ نے ابتدامیں ”ویٹ لیز“پرتین ماہ کیلئے سری لنکا سے طیارے حاصل کئے مگر بعد میں لیز کے عرصہ میں دسمبر2016ء تک کیلئے توسیع کر دی گئی۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اجلاس میں شیئر کی جانیوالی سرکاری دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ آڈٹ حکام کا یہ کہنا ہے کہ پی آئی اے کو 320کروڑ مالیت کے یہ بھاری نقصانات اس لئے اٹھانا پڑے کیونکہ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے مالی فزیبلٹی منفی ہونے کی بنیاد پر آزادنہ فیصلہ نہیں کیا تھا۔

سرکاری دستاویزات میں انکشاف کیاگیا ہے کہ ایف آئی اے نے نوازشریف کے ایک حکم کے باعث پی آئی اے کو ہونیوالے320کروڑ روپے مالیت کے نقصانات کے اس اسکینڈل کی انکوائری کو بند کر دیاتھا۔ پی آئی اے کو ہونیوالے اس بھاری نقصان کو آڈیٹر جنرل پاکستان کی رپورٹ میں ہائی لائٹ کیاگیا تھا اورپبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے اس اسکینڈل کی انکوائری کا حکم دیاتھا۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اجلاس میں موجودایف آئی اے نمائندے کی جانب سے کمیٹی شرکاء کو بتایا گیا کہ ”شواہد کے فقدان کے باعث“ اس کیس سے متعلق انکوائریز کو بند کر دیاگیا تھا۔
افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ پی آئی اے کو نقصان ہوچکا ہے،جس کے شواہد بھی موجود ہیں مگر اس کے باوجود ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ’شواہد کے فقدان کے باعث‘ اس کیس کو بند کر دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: فوج کی مبینہ ڈکیت اورپتھاریدارسیاستدانوں بارے نوے کی دہائی کی فہرست
دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ”مزید یہ کہ ’نوازشریف کی جانب سے‘ پریمئرسروس فلائٹ آپریشن‘ نامی اسکیم شروع کرنے کے حکم کو پی آئی اے بورڈ کے اجلاس میں زیرِ بحث لایا گیا تھا اوراس حقیقت کے باوجود کہ مالی فزیبلٹی رپورٹ کی روشنی میں یہ اسکیم قابلِ عمل نہیں تھی،پھر بھی پی آئی اے کے ’امیج‘ کو بہتر کرنے کے نام پر اس آپریشن کو لندن سیکٹر کیلئے شروع کردیا گیا۔“
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی برہم
دستاویزات کے مطابق ایف آئی اے نے اس میگااسکینڈل کی انکوائری بند کئے جانے سے متعلق پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اجلاس کو آگاہ کیاتواس پر کمیٹی شرکاء کی جانب سے شدید تشویش کا اظہارکیاگیا۔ کمیٹی کا یہ مؤقف تھا کہ چونکہ اس اسکینڈل کی انکوائری پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ریفر کی تھی اس لئے اس کی قسمت کا فیصلہ بھی صرف پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ہی کر سکتی ہے۔

اس مقصد کیلئے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے جامع بریفنگ اورمؤقف جاننے کیلئے یکم ستمبر2022ء کو سیکرٹری داخلہ اورڈی جی ایف آئی اے کو بھی بلانے کی ہدایت کی تھی۔ یکم ستمبر2022ء کو ڈی جی ایف آئی اے ’فیٹف‘ کے ساتھ اجلاس میں شریک ہونے کے باعث پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں پیش نہ ہوسکے تھے تاہم انکی جگہ ایڈیشنل ڈی جی ایف آئی اے نے اجلاس میں شرکت کی تھی۔
ایڈیشنل ڈی جی ایف آئی اے نے اتنے بھاری نقصانات ہونے کے باوجود اسکینڈل میں ملوث فیصلہ ساز افراد(نوازشریف و دیگر فیصلہ سازوں) کی صفائیاں دی تھیں،جن کی بدولت قومی خزانے کو اربوں کا نقصان اٹھانا پڑاتھا۔
دستاویزات کے مطابق ایڈیشنل ڈی جی ایف آئی اے کی جانب سے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو بتایاگیا تھا کہ انکوائری کو اس بنیاد پر بند کر دیا گیا تھا کیونکہ ’فیصلہ سازوں‘ کی جانب سے کوئی ذاتی فوائد نہیں سمیٹے گئے تھے اور اس آپریشن کو پی آئی اے کے امیج کی بہتری کیلئے لانچ کیاگیاتھا۔ان کی جانب سے کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ اب معاملہ کی دوبارہ انکوائری کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی جانب سے نیب اور ایف آئی اے کو ہدایت دی گئی کہ کمیٹی کی جانب سے بھیجے گئے کسی بھی کیس کو اسکی منظوری کے بغیر بند نہ کیا جائے۔مزید یہ کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ڈی جی ایف آئی اے کو یہ میگا کیس دوبارہ کھولنے کا حکم دیا۔

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر

boht aalaw
Shukriya Usman bhai