ارشد شریف نے اپنی زندگی کو خطرات بارے ساڑھے تین ماہ قبل فوجی قیادت کو آگاہ کردیاتھا
قسمت خان زمری،فردِجرم ڈاٹ کام
سینئرصحافی ارشدشریف شہید 12جولائی2022ء کو اپنی زندگی کو درپیش خطرات سے متعلق ڈی جی آئی ایس پی آرکو مطلع کرنے کی کوشش کر چکے تھے۔ انہوں نے پاکستان میں اپنی زندگی کودرپیش خطرات سے متعلق صدرِ پاکستان عارف علوی کو خط لکھا تھا اوراس خط کو آرمی چیف اورڈی جی آئی ایس آئی کو بھی سی سی کردیاتھا۔۔اسکے علاوہ انہوں نے اس خط کو12جولائی کو ٹویٹ کیاتھا اور اس ٹویٹ میں ڈی جی آئی ایس پی آر کو بھی ’ٹیگ‘کیاتھا۔
ڈی جی آئی ایس آئی اورڈی جی آئی ایس پی آر کے دعوے
ڈی جی آئی ایس آئی ندیم انجم نے 27اکتوبر2022ء کو پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ ’ارشدشریف کی زندگی کو پاکستان میں کوئی خطرہ نہیں تھا۔‘اس حوالے سے ڈی جی آئی ایس آئی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ”۔۔جومیرے پاس معلومات ہیں اورتحقیق ہے اس کی بنیاد پر میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ شہیدارشدشریف کی زندگی کو پاکستان میں کوئی خطرہ نہیں تھا۔“
ڈی جی آئی ایس پی آرنے اس پریس کانفرنس میں دعویٰ کیاکہ”ہمارے پاس کوئی ایسی اطلاع نہیں تھی۔خیبرپختونخواہ حکومت نے ایک تھریٹ الرٹ جاری کیا۔ہمارے پاس ایسی کوئی اطلاع نہیں تھی۔“
حقیقت کیا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ ارشدشریف نے 12جولائی2022ء کوپاکستان میں اپنی زندگی کو سنگین خطرے سے متعلق صدرِ پاکستان کو خط لکھا تھا اوروہ اپنے ویری فائیڈ ٹوئٹراکاؤنٹ سے ٹویٹس کی شکل میں اس خط کو عوام کے ساتھ شیئر بھی کر چکے ہیں۔ یہ خط ابھی بھی ارشد شریف کے ٹوئٹراکاؤنٹ پر موجود ہے۔اس خط میں ارشد شریف نے اپنی زندگی کو درپیش خطرات پر قانونی تحفظ کا تقاضا کیا تھا۔

ارشد شریف نے اس خط کو جس ٹویٹ میں شیئرکیا تھا اس میں انہوں نے ڈی جی آئی ایس پی آرکو بھی ٹیگ گیا تھا۔

اسکے علاوہ اس خط کو ارشد شریف نے جن افراد کو ”سی سی“ کیا تھا ان میں آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی بھی شامل تھے۔ ارشدشریف نے اس خط کی نقل جن افراد اوراداروں کو بھجوائی تھی انکی تفصیل کچھ یوں ہے:۔
آرمی چیف
ڈی جی آئی ایس آئی
وزیراعظم پاکستان
وزیرداخلہ
وزیراطلاعات
وزیردفاع
چیئرمین سینٹ
اسپیکرقومی اسمبلی
ڈی جی آئی بی
ایڈیٹرز آف نیوزپیپرز
پی بی اے
سی پی این ای
پی ایف یو جے
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان
کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس
ایمنسٹی انٹرنیشنل
ہیومن رائٹس واچ
کمشنر اسلام آباد
آئی جی اسلام آباد

جولائی2022ء کی جس ٹویٹ میں ارشد شریف نے اپنی زندگی کو درپیش خطرات سے متعلق خط میں جن افراد اوراداروں کو ٹیگ کیاتھا،انکی تفصیل کچھ یوں ہے:۔
ڈی جی آئی ایس پی آر
رانا ثناء اللہ،وفاقی وزیرداخلہ
مریم اورنگزیب،وفاقی وزیراطلاعات و نشریات
پرائم منسٹر آفس
کمیٹی ٹوپروٹیکٹ جرنلسٹس
ایمنسٹی انٹرنیشنل ساؤتھ ایشیاء
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان
یواین ہومن رائٹس
اینکرپرسن سمیع ابراہیم
صدیق جان
عمران ریاض خان
مزید یہ کہ ارشد شریف کا صدرِ پاکستان کو لکھا گیا یہ خط خیبرپختونخواہ حکومت کے ارشد شریف کی زندگی کو خطرے سے متعلق 5اگست2022ء کو جاری شدہ خط سے کہیں پہلے 12جولائی 2022ء کو لکھا گیا تھا۔
ارشدشریف نے خط میں کیا لکھا تھا؟
ارشدشریف نے یہ خط 12جولائی2022ء کو صدرِ پاکستان کے نام لکھا تھا اور اس خط کا عنوان تھا”صحافیوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ مانگتے ہوئے۔“

ارشد شریف نے اپنی 12جولائی کی ٹویٹ میں اس خط سے متعلق بتاتے ہوئے لکھا تھا کہ”صدرِ پاکستان عارف علوی کو صحافیوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ اورصحافیوں کی زندگی کوسنگین خطرات کے تناظر میں تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے خط۔“
اس خط میں ارشدشریف نے لکھا تھا کہ”۔۔۔قانون کی پاسداری کرنیوالے پاکستان کے ایک شہری کی حیثیت سے میں اپنے بنیادی حقوق کے تحفظ اورصحافیوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے انصاف کا متلاشی ہوں اوراپنے اوردیگرصحافیوں کی زندگی اورآزادی کو سنگین خطرے کی ا نفارمیشن کو ریکارڈپررکھتا ہوں۔“
ارشدشریف نے اس خط میں مزیدلکھا تھا کہ”قابلِ احترام ڈاکٹرعارف علوی صاحب،ایک تحقیقاتی صحافی کی حیثیت سے، جسے سال2019ء میں تحقیقاتی صحافت پر ریاست کی جانب سے ’پرائیڈ آف پرفارمنس‘ ملا تھا، آپ کے نوٹس پر لانا چاہتا ہوں کہ چند بے ایمان عناصر کی جانب سے زیرِدستخطی(یعنی ارشدشریف) کو ہدف بنانے اورغیرقانونی طور پرروکنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ وہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل4،آرٹیکل9،آرٹیکل10A،آرٹیکل14،آرٹیکل18،آرٹیکل19اورآرٹیکل19Aکے تحت اپنے حقوق اورفرائض کی انجام دہی سے باز رہے۔“

ارشدشریف نے خط میں مزید لکھاتھا کہ”۔۔مستندذرائع سے ملنے والی قابلِ ساکھ معلومات کی بنیاد پر میں یہ ریکارڈپرلاتا ہوں کہ ’چندبے ایمان عناصر‘کی جانب سے ڈِسکشنز کی گئیں کہ مجھے جھوٹے،بوگس اورمن گھڑت کرمنل کیسز میں ملوث کیا جائے؛اغواء کیا جائے یا جبری طورپرگمشدہ کیا جائے یا پھر مجھے اوردیگرصحافیوں کو ماراپیٹاجائے۔“

ارشدشریف نے اپنی معلومات کی بنیاد پر اس خط میں مزیدلکھا تھا کہ”میرے قابلِ اعتبارذرائع کے مطابق ایسی ہی منصوبہ بندی دیگر صحافیوں کے خلاف بھی کی گئی ہے جن میں عارف حمیدبھٹی،عمران ریاض خان،سمیع ابراہیم،صابرشاکر،صدیق جان،ڈاکٹرمعید پیرزادہ،جمیل فاروقی اورچنددیگرشامل ہیں۔“
اس کے بعد اپنے خط میں ارشدشریف کی جانب سے صحافی عمران ریاض خان کی11جولائی2022ء کی ٹویٹ کا حوالہ دیاگیا ہے جس میں عمران ریاض خان نے لکھا تھا کہ”میری اطلاع کے مطابق ارشدشریف پر حملہ ہوسکتا ہے۔صرف اتنا کہنا چاہتاہوں کہ سوچنا بھی مت۔۔بولنا جرم،سوال اٹھانا گناہ اورجواب مانگنا بدتہذیبی۔۔یہ کونسا نیادستور ہے؟“

اس کے بعد ارشد شریف نے اپنے خط میں سینئر صحافی عارف حمید بھٹی کی اس ٹویٹ کا ذکر کیا ہے جس میں ارشد کی زندگی کو خطرے کا ذکر کرتے ہوئے عارف حمید بھٹی نے لکھا تھاکہ”۔۔صحافت مشکل یا ناممکن؟عمران ریاض خان،سمیع ابراہیم کے بعد غلیظ کھیل کی تیاری؟یااللہ ارشد شریف،ڈاکٹرمعیدپیرزادہ سمیت دیگر کی حفاظت فرما۔کیونکہ ظالموں کو اللہ ہی غرق کرسکتا ہے۔“

ارشدشریف نے اپنے اس خط میں عارف حمید بھٹی کی ایک اورٹویٹ کا حوالہ بھی دیا جس میں کہاگیاتھا کہ”۔۔کچھ لوگ اجرتی قاتلوں اورجرائم پیشہ سے مخالفین کو نقصان پہنچاتے ہیں مگرپولیس و دیگرسرکاری افسرجھوٹے مقدمات،قتل اورغلیظ جالوں سے تنقید کرنے کو نشانہ بناتے ہیں۔ایسے افسراجرتی قاتلوں سے زیادہ ملک اورعوام کے دشمن اورقانون شکن ہیں۔“
ارشدشریف نے اپنے خط میں اپنی زندگی کو درپیش خطرات سے متعلق مزیدلکھا تھا کہ”۔۔میری زندگی اوربنیادی حقوق کو تھریٹ ان عناصرکی جانب سے ہے،جن کے ناپاک منصوبوں کو اس وقت نقصان پہنچا تھا جب میں اسلام آباد ہائی کورٹ چلا گیا تھا۔اسلا م آباد ہائی کورٹ کے معززچیف جسٹس اطہرمن اللہ نے 23مئی2022ء کے حکم نامہ سے مجھے بوگس اوربدنیتی پر مبنی ایف آئی آرز میں غیرقانونی طورپرگرفتارکرنے کی کوششوں کے خلاف قانونی تحفظ فراہم کیا تھا۔“
اپنے اس خط میں ارشد شریف نے دیگر بہت سے حقائق سے صدر کو آگاہ کیا تھا جو یہ ظاہرکرتے تھے کہ ارشدشریف کو دیگرصحافیوں کے ساتھ کیسز میں ملوث کرکے ہراساں کیاجارہا ہے۔


خط کے آخر میں ارشد شریف نے لکھا تھا کہ”قابلِ احترام صدر صاحب،میں ریکارڈ کیلئے مذکورہ بالا حقائق اورمعلومات کو آپ کے نوٹس میں لارہا ہوں تاکہ پاکستان کے قانون کی پاسداری کرنیوالے ایک ایسے شہری کی حیثیت سے،جس کا کوئی کرمنل بیگ گراؤنڈ نہیں،قانون کا تحفظ حاصل کرسکوں۔“

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر
