پاکستان ریلوے کی10ہزارایکڑزمین پرغیرقانونی قبضے اورسٹنٹنگ کے شکار بچوں کا ڈیٹا نہ ہونے کا انکشاف
پارلیمنٹ میں انکشاف ہواہے کہ پاکستان ریلوے کی کھربوں مالیت کی لگ بھگ10ہزارایکڑزمین قبضہ مافیاکے پاس ہے جبکہ ملک میں آئرن کی کمی اورسٹنٹنگ کے شکار چھوٹے بچوں کا حکومت کے پاس کوئی ڈیٹا ہی نہیں ہے۔
قومی اسمبلی کے20اکتوبر2022ء کو ہونیوالے اجلاس میں مختلف وزارتوں کی جانب سے ایوان کو فراہم کردہ دستاویزات میں تہلکہ خیز انکشافات کئے گئے ہیں۔ان اہم انکشافات کی تفصیل کچھ یوں ہے:۔
آئرن کی کمی اورسٹنٹنگ کے شکار بچوں کا ڈیٹا نہ ہونے کا انکشاف
نیشنل ہیلتھ سروسز،ریگولیشنز اینڈکوآرڈی نیشن کے وزیرعبدالقادرپٹیل کی جانب سے قومی اسمبلی کو تحریری طور پرآگاہ کیا گیا ہے کہ پاکستان میں آئرن کی کمی اورسٹنٹنگ کے شکار وہ بچے جن کی عمر چھ سے دس برس ہے،سے متعلق حکومت کے پاس کوئی ڈیٹا ہی نہیں ہے۔ عبدالقادر پٹیل کی جانب سے قومی اسمبلی میں یہ انکشاف ایک سوال کے جواب میں تحریری طور پر کیا گیا ہے۔

پاکستان میں آئرن کی کمی اورسٹنٹنگ کے شکار بچوں کی تعداد سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزارتِ نیشنل ہیلتھ سروسز،ریگولیشنز اینڈکوآرڈی نیشن کی جانب سے انکشاف کیا گیا کہ”نیشنل نیوٹریشن سروے صرف پانچ برس سے کم عمر کے بچوں سے متعلق ڈیٹافراہم کرتا ہے۔ہمارے پاس چھ سے دس برس کی عمر کے بچوں کا ڈیٹا نہیں ہے۔ نیشنل نیوٹریشن سروے2018ء کے مطابق پانچ برس سے کم عمر کے بچوں میں انیمیا53.7فیصد ہے جبکہ سٹنٹنگ 40.2فیصد ہے۔“
وزارت کی جانب سے مزید کہاگیا کہ”حکومت اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ پاکستان غذائیت کی کمی کے بھاری بوجھ کا شکار ہے۔“
عبدالقادرپٹیل کی جانب سے تحریری طور پر اعتراف کیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کی گزشتہ حکومت کے دوران24مئی2021ء کو غذائیت سے متعلق جامع پی سی ون منظورکیا گیا جو کہ ملک بھر کے کل 67اضلاع،جہاں غذائیت کی زیادہ کمی ہے، میں ماؤں اوربچوں کو ٹارگٹ کرتا ہے۔اس پی سی ون کو صوبوں سے بھرپورمشاورت کے ساتھ تیارکیا گیا ہے اورمشترکہ مفادات کونسل کی جانب سے اسکی تائیدکی گئی ہے۔“
عبدالقادرپٹیل کی جانب سے ایوان کو یہ بھی بتایاگیا ہے کہ غذائیت کی کمی پرقابوپانے سے متعلق پی ٹی آئی حکومت کا یہ اہم ترین منصوبہ عملدرآمد کیلئے ضروری فنڈزکا منتظر ہے۔
ریلوے کی10ہزارایکڑزمین پر غیرقانونی قبضے کاانکشاف
وفاقی وزیرِریلوے خواجہ سعدرفیق کی جانب سے قومی اسمبلی میں انکشاف کیاگیا ہے کہ ملک کے چاروں صوبوں میں پاکستان ریلوے کی لگ بھگ10 ہزارایکڑزمین غیرقانونی قبضے میں ہے۔صوبہ سندھ میں ریلوے کی سب سے زیادہ زمین غیرقانونی قبضے میں ہے۔ اربوں کے نقصانات اورخسارے میں جانیوالی پاکستان ریلوے کی ملک کے چاروں صوبوں میں مہنگی ترین زمین قبضہ مافیا کے پاس ہے۔ اس حوالے وزارتِ ریلوے کی جانب سے قومی اسمبلی میں جواعدادوشمار شیئرکئے گئے ہیں،انکی تفصیل کچھ یوں ہے:۔

سندھ میں ریلوے کی 5180ایکڑزمین غیرقانونی قبضے میں ہے۔
پنجاب میں پاکستان ریلوے کی 3287ایکڑزمین غیرقانونی قبضے میں ہے۔
خیبرپختونخواہ میں پاکستان ریلوے کی 832ایکڑزمین غیرقانونی قبضے میں ہے۔
بلوچستان میں پاکستان ریلوے کی 687ایکڑزمین غیرقانونی قبضے میں ہے۔
یوں پاکستان بھر میں ریلوے کی غیرقانونی قبضے میں کل زمین9986ایکڑ بنتی ہے۔

وزارتِ ریلوے کی دستاویزات کے مطابق گزشتہ پانچ برس میں قبضہ مافیاکے خلاف آپریشن کرکے ملک بھر میں ریلوے کی 952.13ایکڑزمین کوواگزارکرایاگیا ہے۔ قبضہ مافیا سے واپس لی گئی اس زمین کی کل مالیت 19ارب60کروڑ روپے سے زائدبنتی ہے۔گزشتہ پانچ برس میں ریلویزکی قبضہ مافیاسے واگزارکرائی گئی زمین کی صوبہ وارتفصیل کچھ یوں ہے:۔
پنجاب میں قبضہ مافیا سے ریلوے کی 475.21ایکڑزمین چھڑائی گئی۔
سندھ میں ریلوے کی 325.93ایکڑزمین قبضہ مافیا سے واپس لی گئی۔
خیبرپختونخواہ میں قبضہ مافیا سے ریلوے کی 132.49ایکڑزمین واپس لی گئی۔
بلوچستان میں قبضہ مافیا سے ریلوے کی 18.7ایکڑزمین واپس لی گئی۔

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر
