منگل, نومبر 3, 2026
تاریخی رپورٹس

حسین نوازنے فوجی افسران پر نوازشریف کی کونسی ذاتی اشیاء غائب کرنے کا الزام لگایا تھا؟

Share

سابق وزیراعظم نوازشریف کے صاحبزادے حسین نواز کی جانب سے پاک فوج کے افسران پر اپنے والد کی کئی قیمتی اشیاء غائب کرنے کا سنگین الزام عائد کیا جا چکا ہے۔ حسین نواز کے مطابق فوجی افسران نے انکے والد میاں نوازشریف کی گھڑیاں،ایک لاکھ ڈالرز کی نقدی اور پچاس سے ساٹھ ہزار ڈالرز مالیت کے ٹریولرز چیک غائب کردئے تھے۔حسین نوازکے بقول فوجیوں نے انکے والد کے ماؤتھ واش تک کو نہیں بخشا تھا۔نوازشریف کے بیٹے کی جانب سے ان اشیاء کی مبینہ چوری سے متعلق انکشافات جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومت کے دوران سینئر صحافی سہیل وڑائچ کو دئے گئے انٹرویوز میں کئے گئے تھے۔

الزامات کی تفصیل
12اکتوبر1999ء کو جب فوج کی جانب سے نوازشریف حکومت کا تختہ الٹا گیا تواس وقت حسین نواز وزیراعظم ہاؤس میں موجود تھے۔ انکے سامنے ہی فوجی حکام نے وزیراعظم ہاؤس پر قبضے کرکے انکے والد،چچا اور دیگر ساتھیوں کو حراست میں لیا تھا۔ فوجی قبضے کے بعد حسین نواز کو دیگر افراد کے ساتھ وزیراعظم ہاؤس میں ہی قید کر دیا گیا تھا۔ حسین نواز کے مطابق وزیراعظم ہاؤس میں انہیں 23اکتوبر1999ء تک رکھا گیا تھا۔ حسین نواز کے بقول اس عرصے میں انہوں نے فوجی افسران کی جانب سے نوازشریف کی وزیراعظم ہاؤس میں موجود ذاتی اشیاء کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے دیکھا تھا۔

Dawn News report of 12th October, 1999 military coup

اس حوالے سے دورانِ انٹرویو انہوں نے سہیل وڑائچ کے ایک سوال کے جواب میں جو انکشافات کئے تھے،انہیں جوں کا توں پیش کیا جارہا ہے:۔


”(حسین نوازکے الفاظ)کرنل اوصاف، جو کور آف انجینئر ز سے تھے، کے ذمہ میرے والد صاحب کے سامان کی چھانٹی لگی۔ وہ وہاں پر آئے اور ایک ایک چیز کی چھانٹی کی۔ بریف کیس وہ ساتھ لے گئے، ان کے کا غذات میرے والد صاحب کی الماریاں تو ڑ کر نکال لئے۔حالانکہ کسی مہذب معاشرے میں یہ رواج نہیں ہوتا۔۔انسان کو اگر یہ کرنا ہے تو نہایت عزت و احترام سے کرے۔ یہاں تک کہ درمیان میں میرے والد صاحب کی ذاتی استعمال کی اشیاء تھیں، کچھ ڈیکوریشن پیس تھے، جو وہاں پر موجود تھے،تو مجھ سے کہنے لگے کہ یہ آپ کے ہیں؟ تو میں نے کہا کہ پرائم منسٹر ہاؤس کس کا ہے؟جس میں رہائش پذیر جو کوئی بھی ہے، ظاہر ہے یہ اس کے ہوں گے۔

تو مجھے کہنے لگے کہ آپ مجھے ان کی رسید یں دکھا ئیں۔ میں نے کہا کہ میں نے تمہیں دکھانے کے لئے رسیدیں سنبھال کر تو نہیں رکھی ہو ئیں تھیں۔ ویسے میرے والد کا یہ سامان ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ نہیں، یہ تمہارے والد کا سامان نہیں ہے، یہ اسٹیٹ پراپرٹی ہے۔ اس کے بعد مجھے پتا لگا کہ اسی روز انہوں نے وہ کمرہ خالی کر لیا۔ اس میں کافی اچھا اور قیمتی سامان بھی تھا۔۔۔ آج تک پتا نہیں لگا کہ وہ سامان کہاں گیا اورا سٹیٹ پراپرٹی تو وہ ویسے ہی رہنے نہیں دیتے، جس طرح دیگر سٹیٹ پراپرٹی پر قابض ہو کر ان کے گھر بنتے ہیں یہ بھی کہیں زینت بن چکا ہوگا، جیسا کہ سٹیٹ پراپرٹی ان کی زینت بنتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اغواء اور بدترین تشدد کے بعد رانا ثناء اللہ کی خطرناک تقریر کی کہانی

میں آپ کو ایک اور واقعہ بتاؤں کہ یہ جو کیپٹن آفاق صاحب ہیں یہ بغاوت سے اگلے دن، میں نے دیکھا کہ پرائم مسٹر ہاؤس کا رہائشی کمپاؤنڈ جو سیل تھا، اس کی کہیں سے چابی لے کر اندر گئے، تو میں نے ان کو باہر نکلتے ہوئے دیکھا۔ میرے والد صاحب کی چونکہ صفائی پسند طبیعت تھی تو میں نے دیکھا کہ ان کے”ماؤتھ واش“ کی بوتل ان کے ہاتھ میں تھی۔ وہ نئی بوتل انہوں نے رکھی ہوئی تھی تو وہ انہوں نے کھولی۔ میں نے دیکھا کہ وہ بوتل منہ کو لگا کر اس”ماؤتھ واش“کے ساتھ غرارے کرتے ہوئے جارہے ہیں اور پرائم منسٹر ہاؤس کی راہداری میں سے گزر رہے ہیں۔ میں دیکھ کر خاموش ہو گیا اور میں نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تو مجھے دیکھ کر بڑے کھسیانے ہو گئے۔۔ مجھے کہنے لگے کہ آپ کو پتا ہے کہ ہمیں ابھی تک پوری سپلائی موصول نہیں ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں: سرکاری خزانے سے ذاتی گھر بنانیوالے پاکستان کے5جاگیرداروزرائے اعظم

میں چپ رہا۔۔میں نے کوئی جواب نہیں دیا تو یہ واپس چلے گئے۔ انہوں نے ظاہر ہے کہ سینئرز سے بات کی ہوگی۔ واپس آئے تو وہی(ماؤتھ واش کی) بوتل جسے انہوں نے منہ لگا کر استعمال کیا تھا،مجھے دے دی۔کہتے ہیں کہ آپ واپس لے لیں تو میں نے کہا کہ آپ نے مجھ سے پوچھ کر لی تھی جو اب مجھے واپس کر رہے ہیں؟ان کے پاس کوئی جواب نہ تھا اور وہ خاموشی سے رکھ کر وہاں سے بھاگ گئے۔

بقول میرے والد صاحب کے کہ وہ تھوڑی بہت نقدی بھی وہاں سے لے گئے۔ ان کے کوئی پچاس،ساٹھ ہزار ڈالرز کے ٹریولرز چیک اور ایک لاکھ ڈالرز نقد بھی غائب ہو گئے۔۔ ان کی کچھ گھڑیاں بھی وہاں سے غائب ہوئیں۔“

یہ بھی پڑھیں: زرداری کی جانب سے بینظیر بھٹو کے پلاٹ پر قبضے کا اسکینڈل


Share

Kismat Khan

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے