بدھ, اکتوبر 28, 2026
تاریخی رپورٹس

اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ سے ملنے والی دستاویزات میں شہبازشریف سے متعلق کیا انکشافات سامنے آئے تھے؟

Share

دومئی 2011ء کو امریکہ کی اسپیشل فورسز نے پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں ایک خفیہ آپریشن میں القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن کو موت کے گھاٹ اتارنے کے بعد انکے ”کمپاؤنڈ“ سے ان گنت دستاویزات اور شواہد کو بھی اپنے قبضہ میں لیا تھا۔ واقعہ کی تحقیقات کیلئے بنائے جانیوالے”ایبٹ آباد کمیشن“کی رپورٹ کے مطابق آپریشن کے دوران امریکی فورسزکے ہاتھ ”معلومات کا خزانہ“ لگا تھا،جس میں ہارڈڈرائیوز کے ساتھ تحریری مواد اور دستاویزات شامل تھیں۔ ان دستاویزات میں مبینہ طور پر کچھ ایسی تھیں،جن میں پاکستان کے موجودہ وزیراعظم شہبازشریف سے متعلق اہم اور ناقابلِ یقین انکشافات موجودتھے۔

اسامہ بن لادن کے مکان سے ملنے والی دستاویزات میں شہبازشریف سے متعلق یہ انکشافات 2015ء میں عالمی اورمقامی میڈیا کی زینت بنے تھے،جنہیں ابتدائی طور پر امریکہ کے”لانگ وار جرنل“کی جانب سے شائع کیا گیا تھا۔

Screenshot of the Reports regarding Shahbaz Sharif’s alleged deal offer with TTP

مارچ2015ء میں امریکہ کی ایک جیوری میں دہشت گردی کے ایک ملزم ”عابد نصیر“کاٹرائل چل رہا تھا۔ اسی ٹرائل کے دوران اسامہ بن لادن کے مکان سے ملنے والے چند ڈاکومنٹس کو بطور شواہد پیش کیاگیا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ان ڈاکومنٹس میں جولائی2010ء کا ایک مبینہ خط بھی تھا،جو اسامہ بن لادن کے ایک ساتھی اور القاعدہ کے اس وقت کے جنرل مینیجر عطیہ عبدالرحمان کی جانب سے لکھا گیا تھا۔

شہبازشریف سے متعلق انکشافات کیا تھے؟
میڈیا رپورٹس کے مطابق عطیہ عبدالرحمان نے اس خط میں اسامہ بن لادن کو بتایا تھا کہ شہبازشریف(جو اس وقت وزیراعلیٰ پنجاب تھے)،تحریک طالبان پاکستان(TTP)سے ڈیل کرنا چاہتے تھے۔مبینہ خط کے مندرجات کے مطابق (شہبازشریف کی پنجاب)حکومت TTPسے ڈیل کرنا چاہتی تھی کہ”جب تک ٹی ٹی پی پنجاب میں کارروائیاں نہیں کرے گی تب تک ان کے ساتھ تعلقات نارمل رہیں گے۔“خط میں اسامہ بن لادن کو مزید بتایاگیا تھا کہ”حکومت نے کہا ہے کہ وہ ہرطرح کی قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں۔“

یہ بھی پڑھیں: سرکاری فنڈز سے ذاتی گھربنانیوالے پاکستان کے پانچ جاگیرداروزرائے اعظم

عطیہ عبدالرحمان کی جانب سے مبینہ خط میں وضاحت کی گئی تھی کہ ”ٹی ٹی پی کے ساتھ یہ ڈیل صرف پنجاب کی حد تک ہوگی۔اس میں اسلام آباد شامل نہیں ہوگا۔“

القاعدہ رہنما عطیہ عبدالرحمان نے اپنے اس مبینہ خط میں مزید لکھا تھا کہ ”وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نےTTP سے بات چیت شروع کر دی ہے۔القاعدہ رہنما کے بقول ٹی ٹی پی کمانڈرحکیم اللہ محسود اور قاری حسین کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ شہبازشریف نے انہیں پیغام بھجوایا ہے کہ حکومت ان سے مذاکرات کی خواہاں ہے اور جب تک TTPپنجاب میں حملے نہیں کرے گی تب تک حکومت کے ان سے تعلقات نارمل رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کی رِہائی میں آئی ایس آئی کا کردار

عطیہ عبدالرحمان نے مبینہ خط میں اسامہ بن لادن کو آگاہ کیا کہ(اس سلسلے میں) تحریکِ طالبان پاکستان ہمہ وقت القاعدہ کو آگاہ رکھے گی۔ عطیہ عبدالرحمان نے اس سلسلہ میں مبینہ خط میں جو الفاظ استعمال کئے وہ کچھ یوں تھے۔”ہم نے ان پر زورڈالا ہے کہ وہ ہرمعاملہ میں ہم سے مشورہ کرینگے۔انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ مشاورت کرینگے۔“

یہ بھی پڑھیں: کیا مشرف نے بلیک میلنگ کیلئے سپریم کورٹ ججوں کی غیراخلاقی ویڈیوزبنوائی تھیں؟

شہباز شریف کی پنجاب حکومت کا مؤقف
میڈیا میں اس مبینہ خط کی خبر پر11مارچ2015ء کو پنجاب حکومت نے ردعمل دیتے ہوئے اسے ”گمراہ کن،بے بنیاد اور قطعی غلط“ قراردیتے ہوئے کہا تھا کہ”یہ رپورٹ مضحکہ خیز ہے۔“پنجاب حکومت کے ترجمان کی جانب سے کہا گیا تھا کہ”گزشتہ چند برسوں میں پنجاب حکومت نے ٹی ٹی پی کی وحشت انگیزیوں کے سامنے بند باندھا ہے۔“


Share

Kismat Khan

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے