اکانومک سروے2023-24ء کے اہم نکات
رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی جی ڈی پی میں 2.38فیصد اضافہ ہوا
رواں مالی سال کے لئے جی ڈی پی گروتھ کا ہدف3.5فیصد رکھا گیا تھا۔۔
رواں مالی سال زرعی شعبے کی بڑھوتری 6.25فیصد رہی
گزشتہ مالی سال زرعی شعبے کی بڑھوتری 2.27فیصد تھی
رواں برس کیلئے ز رعی شعبے کی بڑھوتری کا ہدف 3.5فیصد رکھا گیا تھا۔۔
رواں مالی سال انڈسٹریز کی گروتھ 1.21فیصد رہی
رواں مالی سال سروسز کی گروتھ 1.21فیصد رہی
رواں برس انڈسٹریزکیلئے 3.4فیصد جبکہ سروسز کیلئے3.6فیصد کا ہدف رکھا گیا تھا
رواں مالی سال فی کس آمدن 1680ڈالر رہی،گزشتہ برس1551ڈالر تھی
رواں مالی سال کے پہلے دس ماہ میں ایف بی آر کی آمدن 7362ارب روپے رہی
رواں مالی سال کے پہلے دس ماہ کے دوران مہنگائی26فیصد رہی
گزشتہ مالی سال کے پہلے دس ماہ کے دوران مہنگائی28.2فیصد تھی
مارچ2024ء تک قرضوں کی کل مالیت 67,525ارب رہی
ملک میں شرح خواندگی62.8فیصد رہی۔
تمام صوبوں میں شرح خواندگی میں اضافہ ہوا
رواں مالی سال کے پہلے دس ماہ کے دوران برآمدات 25.7ارب ڈالرز رہیں۔
؎رواں مالی سال کیلئے ایکسپورٹس کا ہدف 30ارب ڈالرز ہے
رواں مالی سال کے پہلے دس ماہ کے دوران ترسیلات زر 23.8ارب ڈالرز رہیں
مالی سال2023-24ء کیلئے ترسیلاتِ زر کا ہدف 33ارب ڈالرز ہے
مالی سال2023-24ء کے دس ماہ میں فارن ڈائریکٹ انوسٹمنٹ کی مالیت1.5ارب ڈالر رہی
2023ء میں ملک میں اسپتالوں کی تعداد1284تھی
ملک میں بیروزگاری کی شرح 6.3فیصد ہے
مارچ2024ء کے اختتام تک ملک میں بجلی کی پیداواری صلاحیت 42131میگا واٹ تھی
اکانومک سروے2023-24ء کا مکمل ڈاکومنٹ

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر
