ارشد شریف قتل کیس:شریف خاندان کے وفادار افسر کو اہم ٹاسک سونپ دیاگیا
ارشد شریف قتل کیس کی تحقیقات کیلئے شہبازشریف حکومت نے اپنے خاندان کے قریبی سمجھے جانے والے ایک ایف آئی اے افسر کو حقائق اکٹھا کرنے کا ٹاسک سونپا ہے۔ شریف خاندان کے قریبی اوروفادار سمجھے جانیوالے اس ایف آئی اے افسر کا نام ’اطہر وحید‘ ہے۔ اطہر وحید کو ارشد شریف قتل کیس سے متعلق حقائق اکٹھا کرنے والی ’ٹیم‘میں شامل کیا گیا ہے۔ اطہروحید کو یہ اہم ٹاسک سونپے جانے کے بعد خدشات ظاہر کئے جارہے ہیں کہ ارشدشریف قتل کیس کی تحقیقات شفاف نہیں ہونگی۔
تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل
ارشدشریف قتل کیس سے متعلق حقائق اکٹھا کرنے کیلئے وزارتِ داخلہ نے 25اکتوبر2022ء کو ایک تین رکنی ’ٹیم‘ نوٹیفائی کی جس میں درج ذیل ممبران کو شامل کیاگیا تھا:۔
اطہروحید،ڈائریکٹر ایف آئی اے
عمرشاہد حامد،ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل،انٹیلی جنس بیورو
لیفٹیننٹ کرنل سعد احمد،آئی ایس آئی

بعد میں اس ’ٹیم‘ میں شامل رکن،لیفٹیننٹ کرنل سعداحمد،جن کا تعلق آئی ایس آئی سے ہے،کو نکال دیا گیا اور یوں یہ دورکنی ٹیم بن گئی۔
تحقیقاتی ٹیم کا مینڈیٹ
وزارتِ داخلہ کے جاری شدہ نوٹی فیکیشن کے مطابق اس کمیٹی کا کام سینئرصحافی ارشد شریف کے قتل سے متعلق کینیا کی پولیس اورمتعلقہ حکام سے حقائق کی توثیق کرنا ہے۔ اس نوٹی فیکیشن کے پیرا2میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ’ٹیم فوری طور پر کینیا کاسفر کرے گی۔وزارت ِداخلہ اورنیروبی(کینیا) میں پاکستانی ہائی کمیشن اس ٹیم کے دورہ کوسہولت یاب کریں گے اوربعد ازاں یہ تحقیقاتی ٹیم اپنی رپورٹ داخلہ ڈویژن کو جمع کرائے گی۔
ٹیم رکن کے شریف خاندان سے تعلقات
وزارتِ داخلہ کی جانب سے تشکیل شدہ اس اہم ٹیم کے رکن اطہروحید ماضی میں شریف خاندان کو خوش کرنے کیلئے اپنے سینئرحکام کے احکامات کو ماننے سے بھی انکار کرچکے ہیں۔ اس کی ایک بڑی مثال سال2009ء میں نوازشریف کی قیادت میں ن لیگ کا لانگ مارچ ہے۔یہ لانگ مارچ اس وقت کی پیپلزپارٹی حکومت کیخلاف نکالاگیاتھا اوراس کا مقصد اعلیٰ عدلیہ کے برطرف شدہ ججوں کی بحالی تھا۔ اس لانگ مارچ کے دوران اطہروحید گوجرانوالہ میں ایس پی کے طور پر تعینات تھے اور انہیں سینئر پولیس حکام سے حکم ملا تھا کہ لانگ مارچ میں شرکت کرنیوالی ن لیگ کی قیادت اورکارکنان کو گرفتارکیا جائے تاہم بطور ایس پی گوجرانوالہ اطہر وحید نے سینئرحکام کے ان احکامات کو ماننے سے انکارکردیا اوراپنے ساتھیوں سے بھی کہا تھا کہ ن لیگی رہنماؤں اور قیادت کیخلاف سینئرپولیس حکام کے ان احکامات کو نہ مانا جائے۔
اطہر وحید کے اس رویے پر دی نیوز کے صحافی عمرچیمہ نے سال2015ء میں اپنی ایک رپورٹ میں لکھا تھا کہ”عدلیہ کی بحالی کیلئے ن لیگ کے لانگ مارچ کے وقت اطہروحید ایس پی گوجرانوالہ تھے۔انہوں نے نوازشریف کے لانگ مارچ میں شرکت کرنے والے ن لیگی رہنماؤں اورکارکنوں کو گرفتار کرنے سے انکارکردیا تھا۔اطہروحید نے پریس کانفرنس کے ذریعے اپنے ساتھیوں سے بھی کہا تھا کہ وہ ایسے احکامات پر عمل نہ کریں اور ان کے اس اقدام پر شہبازشریف نے انہیں سلام پیش کیاتھا۔ ان کے اس اقدام پر مارچ2009ء میں شہبازشریف نے کہا تھا کہ’میں گوجرانولہ کے معطل ایس پی اطہروحید کو سیلوٹ کرتا ہوں جنہوں نے غیرآئینی اورغیرقانونی احکامات کو ماننے سے انکارکیا۔قوم کو ایسے بہادر پولیس افسران پر فخر ہے۔“

صحافی عمرچیمہ نے اپنی اس رپورٹ میں مزیدلکھا تھا کہ”اس وقت کے سیکرٹری داخلہ پنجاب راؤ افتخار نے دی نیوز کے ایڈیٹرانوسٹی گیشن انصارعباسی کو بتایا تھا کہ اطہروحید کی نافرمانی کا یہ عمل سرکشی نہیں بلکہ محض اختلافِ رائے کا کیس تھا۔راؤ افتخار کے مطابق سویلین بیوروکریسی میں اختلافِ رائے کو قبول کیا جاتا ہے اورکئی کیسز میں جونیئرزافسران سینئرز کے ساتھ اتفاق نہیں کرتے۔“
اس کے علاوہ اطہروحید وہ افسر ہیں جو ایف آئی اے کی جانب سے پی ٹی آئی کی فنڈنگ کی تحقیقات کی مانیٹرنگ ٹیم کی سربراہی کررہے ہیں۔

پی ٹی آئی رہنما کا ردعمل
پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری نے ارشد شریف قتل کیس کی تحقیقاتی ٹیم میں اطہروحید کی شمولیت پر کہا ہے کہ”سال2009ء میں بطور ایس پی گوجرانوالہ اطہروحید نے کھل کر نوازشریف سے وابستگی کا اظہار کیا تھا۔وہ ارشد شریف قتل کیس کی تحقیقاتی ٹیم کی سربراہی اس لئے کر رہے ہیں کیونکہ تفتیش کا ایک حصہ وہ ڈاکومنٹری ہوگی جو شریفوں کی کرپشن پر تھی اور جس سے ارشد شریف منسلک تھے۔“

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر
