منگل, نومبر 3, 2026
پارلیمنٹ

پنجاب ہتک عزت بل2024ء میں کیا ہے؟

Share

مریم نوازکی پنجاب حکومت ہتک عزت کیلئے 13مئی 2024ء کو پنجاب اسمبلی سیشن میں ”پنجاب ہتک عزت بل(The Punjab Defamation Bill 2024)“کے نام سے قانون سازی متعارف کرا چکی ہے۔ یہ بل اسی تاریخ کو ”اسپیشل کمیٹی نمبر ایک“ کو بھجوادیا گیا تھا۔اپوزیشن اور صحافتی تنظیموں کی جانب سے ن لیگ کی پنجاب حکومت کی طرف سے متعارف کردہ اس بل کی مخالفت کی گئی ہے۔

پنجاب ہتک عزت بل2024ء کی اہم شقوں کی تفصیل کچھ یوں ہے:۔

شق25 میں کہا گیا ہے کہ بدنامی یا ہتک عزت کے نوٹس یا علم میں آنے کے60روز کے اندر ہتک عزت ٹریبونل کے سامنے دعویٰ دائر کیا جا سکتا ہے۔

شق8 کے تحت ”پنجاب ہتک عزت ٹریبونلز“ کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ ٹریبونل کے ممبر کو حکومت کی جانب سے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی مشاورت سے تعینات کیا جائے گا

شق8 دو میں کہا گیا ہے کہ ہتک عزت ٹریبونلز کا ممبر ایسے شخص کو تعینات کیا جائے گا جو لاہورہائیکورٹ کا جج رہا ہویا ڈسٹرکٹ جج ہو یا رہا ہو یا سپریم کورٹ کا ایسا ایڈووکیٹ ہو،جو لاہور ہائیکورٹ کا جج تعینات ہونے کا اہل ہو

شق 8 تین اے میں کہا گیا ہے کہ ہتک عزت ٹریبونل کے ممبرکی تعیناتی عدلیہ سے کئے جانے کی صورت میں چیف جسٹس کی جانب سے تین افراد نامزد کئے جانگے۔حکومت ان میں سے ایک کو ممبرتعینات کرے گی۔

اگر حکومت چیف جسٹس کے نامزد کردہ ناموں سے مطمئن نہ ہو تو وہ انہیں تحریری وجوہات کے ساتھ واپس بھیج دے گی اور چیف جسٹس تین نئے نام حکومت کو بھجوائیں گے

شق 8 تین بی میں کہا گیا ہے کہ ہتک عزت ٹریبونل کے ممبرکی تعیناتی وکلاء سے کئے جانے کی صورت میں حکومت کی جانب سے تین وکلاء نامزدکئے جائیں اور چیف جسٹس ان میں سے ایک کو ممبر تعینات کریں گے

اگر چیف جسٹس حکومت کے سفارش کردہ ناموں سے مطمئن نہ ہو تو اس صورت میں وہ ان سفارشات کو تحریری وجوہات کے ساتھ حکومت کو واپس بھیج دیں گے اور حکومت تین نئے نام بھجوائے گی

بل کی شق10 کے تحت ہتک عزت ٹریبونل کو وہی اختیارات ہونگے جو کوڈ آف سول پروسیجر 1908ء کے تحت سول کورٹ کے ہوتے ہیں
؎

بل کی شق 10(6)کے تحت ہتک عزت ٹریبونل 180دنوں میں کیس کا فیصلہ کرنے کا پابند ہوگا

سیکشن 13 کے تحت جس کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر ہو اسے ہتکِ عزت ٹریبونل سے leave to
defend حاصل کرنا ہوگی۔ یعنی اسے ٹریبونل کو مطمئن کرنا ہوگا کہ اسکے پاس ٹھوس دفاع ہے۔ ایسا کرنے کی صورت میں ہی اسے دفاع کاحق مل سکے گا

اگر ڈیفینڈینٹ(Defendant) سیکشن 13کے تحت”لیو ٹو ڈیفنڈ“حاصل کرنے میں ناکام ہوجائے تو دعویٰ میں دائرالزامات کو سچ سمجھا جائے گا اور ٹریبونل دعویٰ دائر کرنیوالے کے حق میں ابتدائی فرمان جاری کرے گا،جس میں ڈیفینڈینٹ پر”عمومی ہرجانہ“عائد ہوگا

سیکشن 13 کے تحت عائد عمومی ہرجانے کی کم از کم مالیت30لاکھ روپے ہوگی۔ اسکے بعد اگردعویٰ دائرکرنیوالا کیس کو مزید بڑھانا چاہے تو کیس کے منطقی انجام پر اگر دعویٰ دائر کرنیوالا اپنے دعویٰ کو ثابت کرے تو وہ ”خصوصی ہرجانہ“ کے حصول کا حق دار ٹھہرے گا

سیکشن 16 کی ذیلی شق چارمیں کہا گیا ہے کہ ٹریبونل اپنے جاری شدہ فرمان پر نفاذ کیلئے قانون نافذ کرنیوالے اداروں بشمول پنجاب پولیس کی خدمات اور معاونت حاصل کر سکے گا

سیکشن 20 میں کہا گیا ہے کہ غلط،فضول دعویٰ دائر ہونے کی صورت میں ٹریبونل کی جانب سے دعویٰ دائر کرنیوالے کے خلاف جرمانہ عائد کیا جائے گا

سیکشن 21 کی ذیلی شق ایک میں کہا گیا ہے کہ ہتک عزت ثابت ہونے کی صورت میں ٹریبونل کی جانب سے ڈیفینڈینٹ کو غیر مشروط معافی مانگنے کا کہا جائے گا

سیکشن 21 کی ذیلی شق دو میں کہا گیا ہے کہ ہتک عزت ثابت ہونے کی صورت میں ٹریبونل ہرجانے اور معافی کے ساتھ متعلقہ ریگولیٹری اتھارٹی کو ڈیفینڈینٹ کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ یا دیگر پلیٹ فارم،جس سے توہین آمیز موادد نشر ہوا ہو معطل یا بلاک کرنے کا کہہ سکتا ہے


Share

Kismat Khan

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے