منگل, نومبر 3, 2026
عدلیہ

عمران خان کے چیف جسٹس کے نام خط میں اٹھائے گئے سات ایشوز!

Share

سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے20اپریل2024ء کو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے نام ایک انتہائی اہم خط لکھا گیا ہے۔ جس میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی توجہ سات اہم امور /ایشوز کی جانب دلائی گئی ہے۔ عمران خان کی جانب سے خط میں اجاگرکئے گئے ان معاملات کا خلاصہ کچھ یوں ہے:۔

نمبر ایک:پانچ سال پہلے نیب نے نوازشریف کیخلاف توشہ خانہ سے لگژری گاڑی لینے پرکارروائی شروع کی تھی۔نیب کے مطابق نوازشریف نے گاڑی بے ایمانی اور غیرقانونی طریقے سے لی تھی۔اب نیب پراسیکیوٹرز احتساب عدالت سے کہہ رہے ہیں کہ نوازشریف کو بری کیا جائے۔نیب کے کٹھ پتلی چیئرمین نذیراحمد بٹ کی ایماء پرنیب کے اس دہرے معیار،امتیازی سلوک اور بے ایمانی پر نذیر احمد بٹ کے کنڈکٹ بارے جامع انکوائری ہونی چاہئے

نمبر دو:بہاولنگر میں مسلح افواج نے پولیس کو تشدد سے قابو کیا۔۔پولیس نہتے شہریوں کے گھروں پر چھاپے،لوٹ مار اور توڑ پھوڑ میں ملوث ہے۔ کوئی بھی ان بے آسرا شہریوں کو بچانے نہیں آتا۔۔ان تمام زیادتیوں میں عدلیہ نے نا صرف تماشائی کا کردار ادا کیا بلکہ جب خواتین کو ایک کے بعد دوسرے کیس میں ملوث کیا گیا تو عدلیہ نے سہولت کار کا کردارادا کیا۔آئین نے مختلف ریاستی ستونوں کے مابین جو لائنیں کھینچی ہیں،انکا وجود ختم ہورہا ہے۔مزید تاخیر ہونے سے قبل یہ سب روکنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: زرداری کی جانب سے بینظیر بھٹو کے پلاٹ پر قبضے کا اسکینڈل

نمبر تین:(چھ ججز کے خط کا تذکرہ)۔۔مبینہ طور پرخفیہ کیمرے سے ایک جج کے بیڈروم کی جاسوسی کی گئی۔۔سپریم کورٹ نے ابتک اس معاملہ میں meekاور غیر فیصلہ کن ایکشن لیا ہے۔سپریم کورٹ کو معاملہ پر سخت ایکشن لینا چاہئے۔

نمبر چار:9مئی کے کیسز میں جو لوگ قید ہیں اور ٹرائل کا سامنا کر رہے ہیں ان میں سے90فیصد سے زائد پرامن اور غیر مسلح مظاہرین تھے۔اس حوالے سے آزادانہ،شفاف تحقیقات کیلئے25مئی 2023ء سے پٹیشن سپریم کورٹ میں زیرِالتوا ہے۔اس کیس کو فکس کرکے ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی جاسوس ریمنڈڈیوس کی پاکستانی جیل سے امریکہ روانگی کی تفصیلی کہانی

نمبر پانچ:کمشنر راولپنڈی ڈویژن لیاقت چھٹہ کی پریس کانفرنس اور اسکے الزامات کا تذکرہ۔۔کمشنر کا بیان سے پھرنا،ابھی تک غائب رہنا،راز ہیں۔کیا سپریم کورٹ اتنی بے بس ہے کہ اسے یہ عوامی اہمیت کا معاملہ نہیں لگتا؟

نمبر چھ:عام انتخابات میں دھاندلی سے متعلق سپریم کورٹ میں دو ماہ سے زائد عرصے سے دائر درخواستوں کو فکس کرکے ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے

نمبر سات: مخصوص نشستوں سے متعلق زیرالتواء درخواستوں کوفکس کرکے ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے


Share

Kismat Khan

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے