صدر کا آفیشل سیکرٹس اور آرمی بل کے قانون بننے بارے بڑا انکشاف
صدرِ پاکستان عارف علوی نے آفیشل سیکرٹس ترمیمی بل 2023 اور پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 ء کے ایکٹ بننے سے متعلق بڑا انکشاف کر دیا ہے۔ انکی جانب سے ٹویٹ کرکے بتایا گیا ہے کہ ان بلز کے قانون بننے کے عمل میں ایوانِ صدر کا عمل انکی منشاء اور حکم کے برخلاف گیا ہے۔
اس حوالے سے صدر عارف علوی نے ٹویٹ کرکے لکھا کہ”۔۔۔۔میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے آفیشل سیکرٹس ترمیمی بل 2023 اور پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 پر دستخط نہیں کیے کیونکہ میں ان قوانین سے متفق نہیں تھا۔ میں نے اپنے عملے سے کہا کہ وہ بغیر دستخط شدہ بلوں کو مقررہ وقت کے اندر واپس کر دیں تاکہ انہیں غیر موثر بنایا جا سکے۔ میں نے ان سے کئی بار تصدیق کی کہ آیا وہ واپس جا چکے ہیں اور مجھے یقین دلایا گیا کہ وہ جا چکے ہیں۔ تاہم مجھے آج پتہ چلا کہ میرا عملہ میری مرضی اور حکم کے خلاف گیا۔اللہ سب جانتا ہے، وہ انشاء اللہ معاف کر دے گا۔ لیکن میں ان لوگوں سے معافی مانگتا ہوں جو اس سے متاثر ہوں گے۔۔۔“


صدر کے اس بیان پر سینیٹر مشاق احمد خان نے اپنی ٹویٹ میں یوں تبصرہ کیا ہے:۔
”۔۔۔یہ تو ایک نیا پنڈورابکس کھل گیا،اگر صورتحال واقعی ایسی ہی ہے جیسا کہ صدر نے لکھا ہے تو یہ ریاست پاکستان،پارلیمنٹ، قانون سازی کیساتھ ساتھ 24کروڑ پاکستانیوں کی توہین ہے۔معاملات ایک دفعہ پھر عدالتوں میں جائینگے۔ملک کے اعلی ترین منصب/آفس کے اس حال سے پاکستان کے حالات کا اندازہ لگاجاسکتاہے،اللہ پاکستان پر رحم فرمائے۔“

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر
